LIVE
Loading Breaking News...

تیونس میں اپوزیشن رہنماؤں کی سزائیں برقرار، عدلیہ پر سیاسی دباؤ کا الزام

News Image
تیونس کی اعلیٰ عدالت نے سیاسی شخصیات اور کارکنوں کی طویل سزائے قید کے فیصلوں کی توثیق کر دی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ عدلیہ سیاسی دباؤ کے تحت کام کر رہی ہے اور اپوزیشن کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
تیونس کی اعلیٰ عدالت نے ایک اہم فیصلے میں ملک کے سرکردہ اپوزیشن رہنماؤں اور سیاسی کارکنوں کی سزاؤں کی توثیق کر دی ہے۔ اس عدائلی فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں شدید ہلچل مچ گئی ہے اور تیونس کے اندر اور باہر انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ ان اپوزیشن رہنماؤں کو پہلے ہی طویل قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں جنہیں اب اعلیٰ عدالت کی طرف سے برقرار رکھ لیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد حکومت مخالف حلقوں اور بین الاقوامی مبصرین کی جانب سے سخت تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ تیونس کا عدالتی نظام سیاسی دباؤ کے تحت کام کر رہا ہے اور حکومت اس کے ذریعے سیاسی مخالفین کو کچلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات ملک میں جمہوریت اور آزادیِ اظہار کے لیے شدید خطرہ بنتے جا رہے ہیں، جس سے معاشرے میں عدم استحکام بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ دوسری جانب، متعلقہ حکام اور عدالتی ذرائع اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تمام عدالتی کارروائیاں ملکی قوانین اور آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے انجام دی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور کسی بھی مجرم کو سیاسی وابستگی کی بنیاد پر رعایت نہیں دی جا سکتی۔ اس صورتحال نے تیونس کے سیاسی منظر نامے کو مزید کشیدہ کر دیا ہے اور آنے والے دنوں میں سیاسی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔