LIVE
Loading Breaking News...

نیویارک کا اسکولوں میں اے آئی پر پابندی کا فیصلہ اور اس کے اثرات

News Image
نیویارک کے اسکولوں میں مصنوعی ذہانت پر ایک سالہ پابندی کا نفاذ کیا گیا ہے جو چھ لاکھ طلباء کو متاثر کرے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم پورے امریکہ کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔
نیویارک کے تعلیمی حکام کی جانب سے آٹھویں جماعت تک کے طلباء کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال پر عائد کی جانے والی ایک سالہ پابندی نے پورے ملک میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ نیویارک کا یہ قدم ریاستہائے متحدہ امریکہ کی دیگر ریاستوں اور اسکولوں کے لیے بھی ایک نمونہ یا راہ عمل ثابت ہو سکتا ہے۔ اس پابندی سے مجموعی طور پر چھ لاکھ کے قریب طلباء براہ راست متاثر ہوں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ تدریسی عمل کے معیار کو برقرار رکھنے اور طلباء کی تخلیقی صلاحیتوں کو محفوظ بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں چیٹ جی پی ٹی اور دیگر جنریٹو اے آئی ٹولز کے طلبا کی جانب سے ہوم ورک اور مضامین لکھنے میں بڑھتے ہوئے استعمال نے اساتذہ اور ماہرین تعلیم کو تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔ اسکول انتظامیہ کا مقصد طلباء میں تنقیدی سوچ اور خود انحصاری کی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔ اس ایک سالہ پابندی کے دوران ماہرین تعلیم، اساتذہ اور تکنیکی ماہرین کا ایک مشترکہ بورڈ اس بات کا جائزہ لے گا کہ تعلیمی اداروں میں مصنوعی ذہانت کے مثبت اور منفی اثرات کیا ہو سکتے ہیں۔ مستقبل میں ضوابط طے کرنے کے لیے یہ وقت انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ جہاں کچھ حلقے اس فیصلے کو وقت کی ضرورت قرار دے رہے ہیں، وہیں کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ پابندی کے بجائے اے آئی کو نصاب کا حصہ بنانا زیادہ بہتر حکمت عملی ہوتی۔