Pakistan
کراچی: کورنگی کراسنگ پر ہنگامہ آرائی پر جماعت اسلامی کے 6 کارکن گرفتار
کراچی میں پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی ہڑتال کے دوران کورنگی کراسنگ پر ٹریفک بلاک کرنے اور موٹرسائیکلیں جلانے پر پولیس نے چھ کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ دوسری جانب جماعت اسلامی نے گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ حکومت اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔
کراچی کے علاقے کورنگی کراسنگ پر ٹریفک کی روانی کو متاثر کرنے، سڑک پر ٹائر جلانے اور موٹرسائیکلیں نذرِ آتش کرنے کے الزام میں پولیس نے جماعت اسلامی کے چھ کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ یہ گرفتاری ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب جماعت اسلامی ملک بھر میں پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف احتجاجی ہڑتال کر رہی تھی۔ واقعے کی وڈیوز بھی سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہیں جن میں سڑک پر جلتی ہوئی موٹرسائیکلوں کے باقیات اور ٹائر دیکھے جا سکتے ہیں، جنہیں مبینہ طور پر راستے کی بندش کے لیے استعمال کیا گیا۔کورنگی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس حسین جنواری کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس واقعے کے سلسلے میں جماعت اسلامی کے چھ کارکنوں کو حراست میں لیا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ گرفتار کیے جانے والے پارٹی کارکنوں نے مبینہ طور پر ایک کباڑیے سے دو پرانی موٹرسائیکلیں اور کچھ پرانے ٹائر حاصل کیے اور انہیں کورنگی کراسنگ پر لا کر آگ لگائی تاکہ ٹریفک کا نظام معطل کیا جا سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ موقع پر پہنچ کر صورتحال پر قابو پا لیا گیا اور اب نامزد ملزمان کے خلاف انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورنگی میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری تحقیقات کا حکم دیا۔ وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے واضح کیا کہ امن و امان کو سبوتاژ کرنے والے عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا اور بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے پولیس چیف سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کی تھی۔جماعت اسلامی کی طرف سے اس واقعے پر فوری ردعمل سامنے آیا اور پارٹی نے اپنے کارکنوں کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ ان کی ہڑتال مکمل طور پر پرامن تھی اور تاجر برادری نے بھی اس کی بھرپور حمایت کی ہے، تاہم حکومت گھبراہٹ کا شکار ہو کر اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے تاکہ عوامی احتجاج کو دبایا جا سکے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ نام نہاد شرپسند عناصر کے اس واقعے سے جماعت اسلامی کا کوئی تعلق نہیں ہے اور حکومت مظلوم عوام کی آواز دبانے کے لیے اس طرح کی کارروائیاں کر رہی ہے۔