Pakistan
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ کا استعفیٰ
لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس راحیل کامران شیخ نے اپنے عہدے سے مستعفی ہو کر صدر مملکت کو استعفیٰ ارسال کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے فیصلے کی وجہ قانونی تحقیق، پالیسی ریسرچ اور تقابلی عدلیہ کے شعبے میں کام کرنے کی خواہش بتائی ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس راحیل کامران شیخ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اور صدر مملکت آصف علی زرداری کو آئین کے آرٹیکل 206 کے تحت اپنا استعفیٰ ارسال کر دیا ہے۔ ان کے اس استعفیٰ کا خط 3 ستمبر کی تاریخ کا حامل ہے، جس میں انہوں نے اپنے اس فیصلے کے اسباب تفصیل سے بیان کیے ہیں۔ جسٹس راحیل کامران کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ میں جج کے طور پر گزارا گیا وقت ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا سب سے زیادہ تعمیری اور تسلی بخش دور رہا ہے، تاہم گہرے غور و فکر کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بطور جج مزید ترقی اور قانون کی بالادستی کے لیے ان کا کردار اب قانونی تحقیق، پالیسی ریسرچ اور تقابلی عدلیہ کے شعبے میں زیادہ بہتر انداز میں ادا ہو سکتا ہے۔
اپنے استعفیٰ کے خط میں جسٹس راحیل کامران شیخ نے اپنے سینئر ساتھی ججز کا ان کی رہنمائی پر شکریہ ادا کیا اور اپنے عملے کی معاونت کو بھی سراہا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ آئین اور قانون کی حکمرانی کے ساتھ اپنے دیرینہ عزم پر قائم رہتے ہوئے اس منصب سے سبکدوش ہو رہے ہیں۔ اس استعفیٰ کی ایک نقل لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو بھی ارسال کر دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ جسٹس راحیل کامران نے مئی 2021 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالی تھیں اور وہ جنوری 2036 میں اپنی مدت ملازمت پوری کرنے والے تھے۔
بینچ پر آنے سے پہلے جسٹس راحیل کامران شیخ کا شمار ملک کے نمایاں اور معروف قانون دانوں میں ہوتا تھا۔ وہ 2016 سے 2020 تک پاکستان بار کونسل کے منتخب رکن بھی رہے اور اس دوران بار کونسل کی انسانی حقوق کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر بھی فرائض انجام دیے۔ ان کی قانونی پریکٹس کا دائرہ کار پبلک لاء، کمرشل لاء، ٹیکسیشن اور انسانی حقوق تک پھیلا ہوا تھا۔ وہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور نامور سینیئر وکیل اکرم شیخ کے فرزند ہیں۔ وہ لندن اسکول آف اکنامکس کے فارغ التحصیل اور مڈل ٹیمپل کے بیرسٹر بھی ہیں۔