Sports
پاکستان کرکٹ کا خاتمہ نہیں ہوا، چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا بیان
چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں کرکٹ کے خاتمے کے دعوے سراسر غیر معقول ہیں۔ انہوں نے حالیہ کارکردگی اور رینکنگ میں بہتری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹیم کی کامیابی کا تناسب بہتر ہوا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں کہا جا رہا ہے کہ پاکستان میں کرکٹ کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے حال ہی میں ٹیم کی کارکردگی اور رینکنگ میں ہونے والی بہتری کا ذکر کیا اور کہا کہ اس قسم کے مایوس کن بیانات حقیقت کے منافی ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ دوسری ٹیمیں بھی کمزور حریفوں کے خلاف ہار جاتی ہیں، لہٰذا صرف پاکستان پر تنقید کرنا ناانصافی ہے۔ انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران اسکواڈ میں کی گئی تبدیلیوں اور اسکواڈ کے بعض کھلاڑیوں کو باہر کیے جانے پر شائقین اور سابق کھلاڑیوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا تھا، جس پر تبصرہ کرتے ہوئے محسن نقوی نے مؤقف اختیار کیا کہ بورڈ نتائج کے لیے جوابدہ ہے اور ٹیم کی بہتری کے لیے سخت فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔
محسن نقوی نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ون ڈے کرکٹ میں پاکستان کی رینکنگ آٹھویں سے بہتر ہو کر پانچویں نمبر پر آ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چھ ون ڈے سیریز میں سے پاکستان نے چار میں فتح حاصل کی ہے جبکہ ٹیم کی کامیابی کا تناسب بھی چوبیس فیصد سے بڑھ کر تہتر فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ ان تمام مثبت حقائق کو نظر انداز کر کے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پاکستانی کرکٹ زوال پذیر ہے۔ سابق کپتان اظہر علی اور دیگر ناقدین کی طرف سے اٹھائے جانے والے خدشات کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سلیکشن میں بعض اوقات غلطیاں ہو جاتی ہیں جن کی ذمہ داری وہ خود لیتے ہیں لیکن اس کا مقصد کھلاڑیوں کو بلاوجہ باہر کرنا نہیں بلکہ بہتر نتائج کا حصول ہے۔
چیئرمین پی سی بی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ناقدین کو ذاتی تنقید ضرور کرنی چاہیے لیکن اس عمل سے کھلاڑیوں کا مورال ڈاؤن نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس سے پوری ٹیم کی کارکردگی پر منفی اثر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کو نویں پوزیشن سے پہلے نمبر پر لانے کے لیے وقت درکار ہے اور راتوں رات یہ معجزہ رونما نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان فیصلوں پر تنقید دراصل ان کے خلاف مہم کا حصہ ہے تاکہ انہیں بورڈ سے ہٹایا جا سکے، مگر انہوں نے اپیل کی کہ ذاتی رنجشوں کی وجہ سے قومی کھیل کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ واضح رہے کہ دورہ انگلینڈ کے دوران قومی ٹیم اور چیئرمین پی سی بی نے بکنگھم پی محل کا دورہ بھی کیا جہاں شاہ چارلس سے ان کی ملاقات ہوئی۔