LIVE
Loading Breaking News...

ایل نینو کی شدت میں اضافہ، دنیا خطرے کے زون میں، اقوام متحدہ کی وارننگ

News Image
اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ ایل نینو کا مظہر ریکارڈ کی گئی تاریخ کا سب سے طاقتور ترین واقعہ بن سکتا ہے جس سے دنیا بھر میں شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ سیارہ اس وقت انتہائی خطرناک زون میں داخل ہو چکا ہے اور ہمیں فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔
اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے نے جمعرات کے روز ایک سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایل نینو (El Nino) کا قدرتی موسمی مظہر چار دہائیوں کے ریکارڈ میں سب سے زیادہ طاقتور ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ دنیا اس وقت انتہائی موسم کے 'خطرناک زون' میں داخل ہو چکی ہے۔ ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (WMO) کے مطابق، یہ قدرتی مظہر آنے والے مہینوں میں انتہائی طاقتور شکل اختیار کرنے والا ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ فروری تک برقرار رہے گا۔ ایل نینو کی وجہ سے استوائی بحر الکاہل کے وسطی اور مشرقی حصوں میں سطح کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے، جس سے دنیا بھر میں ہواؤں، فضائی دباؤ اور بارش کے معمولات میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ ڈبلیو ایم او کی سربراہ سیلسے ساولو نے جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اگر یہ رجحان اسی طرح جاری رہا تو یہ پچھلی چار دہائیوں کے تمام ریکارڈ توڑ سکتا ہے۔ یہ صورتحال ہمارے طے شدہ پیمانوں سے بھی باہر ہو جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایل نینو اس سال کے آخر تک اپنی چوٹی پر پہنچ جائے گا، جبکہ اس کے اثرات 2027 تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ سمندروں کی گرمی آہستہ آہستہ فضا میں منتقل ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اگلے سال عالمی درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ 2023-24 کے طاقتور ایل نینو نے پہلے ہی 2024 کو ریکارڈ گرم ترین سال بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا، اور اب اس ریکارڈ کے ٹوٹنے پر بھی کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ ایل نینو ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے مزید خوفناک شکل اختیار کر رہا ہے۔ سائنس اس بات کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتی کہ سیارہ نامعلوم اور خطرناک پانیوں میں سفر کر رہا ہے، جہاں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس وقت سب سے بڑی دوڑ بڑھتے ہوئے خطرات اور آب و ہوا کے تحفظ کے لیے ہماری اجتماعی ذمہ داری کے درمیان ہے، اور ہمیں یہ دوڑ ہر صورت جیتنا ہوگی۔ دوسری جانب ڈبلیو ایم او نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ اس غیر معمولی ایل نینو سے دنیا بھر کی معیشتوں اور کمیونٹیز کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔ خشک سالی اور سیلاب کی وجہ سے جو تباہی ہم اب دیکھ رہے ہیں، ایل نینو کی شدت میں اضافے کے ساتھ اس میں مزید وسعت آنے کا اندیشہ ہے۔ ماحولیاتی ماہرین نے زراعت، صحت، توانائی اور پانی کے شعبوں سے وابستہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر تیاریاں مکمل رکھیں کیونکہ اب ضائع کرنے کے لیے ایک لمحہ بھی باقی نہیں ہے۔