Pakistan
مومنہ اقبال سائبر ہراسگی کیس میں نیا موڑ، این سی سی آئی اے کے نوٹس جاری
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے اداکارہ مومنہ اقبال کی ہراسگی کے معاملے میں نئے شواہد سامنے آنے پر اداکارہ اور مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چھڈھر کو طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے تفتیشی افسر کے بیان کے بعد ملزمان کی عبوری ضمانت کی درخواستیں بھی نمٹا دی ہیں۔
لاہور: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ٹیلی وژن کی معروف اداکارہ مومنہ اقبال کی مبینہ ہراسگی کے کیس میں نئے شواہد سامنے آنے کے بعد اداکارہ اور پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن صوبائی اسمبلی ثاقب چھڈھر کو نئے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ رواں سال کے آغاز میں مومنہ اقبال نے سوشل میڈیا کے ذریعے عام طور پر آن لائن ہراسگی، سائبر بلنگ اور دھمکیاں ملنے کی شکایات کی تھیں جس کے بعد یہ معاملہ سرخیوں میں آیا تھا۔ اداکارہ کی جانب سے الزامات عائد کیے جانے کے بعد ایجنسی نے پیکا ایکٹ اور تعزیرات پاکستان کی دفعات کے تحت کیس درج کیا تھا۔ تازہ پیش رفت کے مطابق این سی سی آئی اے نے اداکارہ مومنہ اقبال کو 14 ستمبر جب کہ رکن اسمبلی ثاقب چھڈھر کو 11 ستمبر کو لاہور دفتر میں طلب کر رکھا ہے۔
این سی سی آئی اے پنجاب کے ڈپٹی ڈائریکٹر وقاص سعید کے مطابق اس معاملے کی از سر نو تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو ڈپٹی ڈائریکٹر کی سربراہی میں کام کرے گی۔ یہ ٹیم کیس میں پہلے سے موجود ریکارڈ کے ساتھ ساتھ حال ہی میں حاصل ہونے والے ڈیجیٹل شواہد کا بھی باریک بینی سے جائزہ لے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس خصوصی ٹیم کو ایک ماہ کا وقت دیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی تحقیقات مکمل کر کے ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اے کو رپورٹ پیش کرے، جس کی روشنی میں آئندہ قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ایجنسی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انکوائری مکمل ہونے سے پہلے کسی بھی فریق کو قبل از وقت گناہگار یا بے گناہ قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔
دوسری جانب لاہور کی ایک سیشن عدالت نے مسلم لیگ ن کے ایم پی اے ثاقب چھڈھر اور ان کی اہلیہ کی جانب سے دائر کی جانے والی قبل از وقت ضمانت کی درخواستوں کو واپس لیے جانے کی بنیاد پر نمٹا دیا۔ سماعت کے دوران نئے تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ موجودہ مرحلے پر ملزمان کی گرفتاری کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس سے قبل گزشتہ سماعت پر سابق تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا تھا کہ تفتیش کے دوران ثاقب چھڈھر کو قصوروار پایا گیا تھا، تاہم اب تفتیش کا رخ بدلنے کے باعث گرفتاری درکار نہیں۔ یاد رہے کہ اس معاملے کا آغاز مئی میں اس وقت ہوا تھا جب مومنہ اقبال نے سوشل میڈیا پر بغیر نام لیے ایک صوبائی اسمبلی کے رکن پر شدید ذہنی دباؤ، ہراسگی اور سنگین دھمکیاں دینے کا الزام عائد کیا تھا، جس پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی نوٹس لیتے ہوئے قانون کے مطابق سخت کارروائی کا انتباہ دیا تھا۔