Technology
سوشل میڈیا پر غلط شناخت کا عذاب: تین خواتین اور ایک نام کی کہانی
اگست 2024 میں ایک نام کی وجہ سے تین مختلف خواتین کی تصاویر کو غلط طور پر ایک خودکش حملہ آور سے منسوب کر کے سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا گیا۔ اس سنگین غلطی اور پروپیگنڈے نے متاثرہ خواتین اور ان کے خاندانوں کی زندگیوں کو شدید ذہنی کرب اور خوف میں مبتلا کر دیا۔
اگست 2024 کے دوران سوشل میڈیا پر ایک چہرہ تیزی سے وائرل ہوا جس کے ساتھ 'دہشت گرد خودکش بمبار' کا لیبل چسپاں تھا۔ یہ تصاویر ہزاروں افراد نے دیکھیں اور منٹوں میں سیکڑوں بار شیئر کیں۔ ان کیپشنز میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہی وہ خاتون ہیں جنہوں نے اس سال کے شروع میں لسبیلہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کے پیچھے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ لیکن یہ دعوے سراسر غلط اور بے بنیاد ثابت ہوئے۔ فیکٹ چیکنگ ادارے 'آئی ویریفائی پاکستان' اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) بلوچستان کے مطابق، حملہ آور خاتون کوئی اور تھیں جبکہ جن خواتین کی تصاویر وائرل کی گئیں ان کا اس واقعہ سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔ اصل حملہ آور 23 سالہ قانون کی طالبہ تھی جو بلوچ لبریشن آرمی سے تعلق رکھتی تھی۔ انٹرنیٹ کے اس دور میں اس قسم کے غلط الزامات نے معصوم لوگوں کی زندگیوں کو جہنم بنا دیا۔
اس واقعے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی وہ خاتون تھیں جو اپنی کم سن بیٹیوں اور بزرگ خواتین کے ساتھ کوئٹہ میں مقیم تھیں۔ فیکٹ چیکنگ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں دسمبر 2023 سے نومبر 2025 کے درمیان ایک ہزار سے زائد گمراہ کن دعوے سوشل میڈیا پر گردش کرتے رہے جن میں سے آدھے سے زیادہ کو سراسر غلط قرار دیا گیا۔ وائرل ہونے والے اس طوفان کے بعد متاثرہ خاندان کو شدید سماجی بائیکاٹ اور خوف کا سامنا کرنا پڑا۔ متاثرہ خاتون کے وکیل نے بتایا کہ اس غلط الزام نے نہ صرف ان کے خاندان کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا بلکہ میڈیا پر ان کی کردار کشی بھی کی گئی۔ صورتحال اتنی خراب ہو گئی کہ بچوں کا اسکول جانا اور عام زندگی گزارنا بھی محال ہو گیا، کیونکہ پورا خاندان مسلسل خوف کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو گیا۔
اس معاملے کا ایک اور دردناک پہلو یہ تھا کہ کوئٹہ سے آٹھ سو کلومیٹر دور ایک اور خاتون، جو کہ آرٹسٹ تھیں، وہ بھی اسی غلط شناخت کی زد میں آ گئی۔ ان کی پرانی پوڈ کاسٹ ویڈیوز کے کلپس کاٹ کر انہیں خودکش بمبار کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس آرٹسٹ خاتون کے مطابق، جب وہ اگلے دن کالج گئیں تو ان کے اساتذہ اور طلباء نے حیرت سے انہیں زندہ دیکھ کر حیرت کا اظہار کیا کیونکہ سوشل میڈیا ان کی موت اور دہشت گردی کے قصے سنا چکا تھا۔ ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی بانی نغہت داد نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز الگورتھمز کے ذریعے اس قسم کے مواد کو کس طرح فروغ دیتے ہیں جو اشتعال انگیزی کو بڑھاوا دیتے ہیں اور منافع کماتے ہیں۔
پاکستان کو اس وقت غلط معلومات اور جعلی خبروں کے ایک سنگین بحران کا سامنا ہے، جس کی بڑی وجوہات میں ادارہ جاتی کمزوریاں، کم میڈیا لٹریسی اور معلومات تک محدود رسائی شامل ہیں۔ بلوچستان جیسے علاقے میں، جہاں پہلے ہی معلومات کا حصول انتہائی مشکل اور سنسرشپ کا شکار ہے، اس قسم کی افواہیں جنگل کی آگ کی طرح پھیل جاتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیوں اور ریگولیٹرز کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ غلط مواد کی تشہیر کے ذمہ دار کون ہیں اور مقامی زبانوں میں فیکٹ چیکنگ اور مواد کی نگرانی کے مؤثر نظام کو یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ کسی بھی بے گناہ کی زندگی اس طرح داؤ پر نہ لگ سکے۔