LIVE
Loading Breaking News...

سندھ اسمبلی میں صوبے کی تقسیم کی مخالفت اور ایم کیو ایم کا بائیکاٹ

News Image
سندھ اسمبلی کے اجلاس میں صوبے کی تقسیم کی مخالفت میں قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی گئی جبکہ ایم کیو ایم پاکستان نے اس عمل کے خلاف احتجاجاً ایوان کا بائیکاٹ کیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے صوبے کی تاریخی اور آئینی حیثیت کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے اسے ناقابل تقسیم قرار دیا۔
کراچی میں سندھ اسمبلی کا ایک ہنگامہ خیز اجلاس منعقد ہوا جس کے دوران صوبے کی تقسیم کے معاملے پر شدید بحث و مباحثہ دیکھنے میں آیا۔ حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان نے 'سندھ میری ماں ہے' کے نعرے درج بینرز اٹھا کر ایوان میں اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ اجلاس کے دوران سندھ کی آئینی اور تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا اور صوبے کو تقسیم کرنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد کر دیا گیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے صوبے کے تاریخی پس منظر اور جغرافیایی وحدت کا بھرپور دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام اپنی دھرتی کی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور صوبے کی شناخت کو نقصان پہنچانے والے تمام عزائم کو ناکام بنایا جائے گا۔ اجلاس کے دوران سیاسی ماحول کافی کشیدہ رہا اور حکومتی ارکان کی جانب سے سندھ کی بقا اور سلامتی کے نعرے لگائے گئے۔ دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان نے اس پورے عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت اپنی ناقص گورننس کی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے ایسے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ اپوزیشن جماعت نے مؤقف اختیار کیا کہ صوبے کے انتظامی امور کو بہتر بنانے اور عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے بجائے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی جا رہی ہے۔ اپنے تحفظات کے اظہار کے طور پر ایم کیو ایم پاکستان نے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا اور ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ اس سیاسی ڈیڈ لاک کے بعد صوبائی اسمبلی کے اندر اور باہر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے اس معاملے پر تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سندھ اسمبلی میں یہ پیش رفت آنے والے دنوں میں صوبائی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، جہاں حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔