Pakistan
میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کے سامنے اہم گواہوں کے بیانات قلمبند
میر رضا علی کیس کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے اہم پیشرفت کرتے ہوئے کاروباری شراکت دار اور ٹیکسی ڈرائیور کے بیانات ریکارڈ کر لیے ہیں۔ اس دوران وکیل صفائی نے شواہد کی دیکھ بھال اور پولیس کارروائی پر کئی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔
کراچی میں متنازع اور ہلاکت خیز میر رضا علی کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں قائم کیے گئے جوڈیشل کمیشن نے اپنی کارروائی کو مزید تیز کرتے ہوئے اہم گواہوں کے بیانات قلمبند کرنا شروع کر دیے ہیں۔ کمیشن کے روبرو حالیہ سماعت کے دوران مقتول کاروباری شخصیت کے کاروباری شراکت دار اور ایک ٹیکسی ڈرائیور نے پیش ہو کر اپنے بیانات ریکارڈ کروائے، جن سے کیس کے کئی نئے پہلو سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
سماعت کے دوران ایک اور اہم انکشاف سامنے آیا جہاں عبداللہ نامی وینڈر نے دعویٰ کیا کہ متعلقہ کاروباری شخص میر رضا علی پر اس کے 75 لاکھ روپے واجب الادا تھے۔ دوسری جانب، سب ڈویژنل پولیس آفیسر (SDPO) نے اس تاثر کی سختی سے تردید کی ہے کہ انہوں نے مقتول کے اہل خانہ کو یہ کہا تھا کہ یہ موت خودکشی تھی۔ پولیس افسر کے اس بیان نے کیس کی تفتیش میں مزید پیچیدگی پیدا کر دی ہے اور معاملے کو مشکوک بنا دیا ہے۔
کیس کے وکیل نے پولیس کارروائی اور شواہد کی دیکھ بھال (evidence handling) کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کئی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ وکیل کا مؤقف ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے دوران اہم نوعیت کے شواہد کو جس طرح سنبھالا گیا، اس میں شفافیت کی کمی نظر آتی ہے جو کہ انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
جوڈیشل کمیشن اس کیس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے تاکہ حقیقت کو سامنے لایا جا سکے۔ کمیشن کی جانب سے آئندہ دنوں میں مزید متعلقہ افراد اور پولیس حکام کو بھی طلب کیے جانے کا امکان ہے تاکہ میر رضا علی کی موت کے اصل حقائق سے پردہ اٹھایا جا سکے اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔