LIVE
Loading Breaking News...

اسلام آباد بلدیاتی نظام ترمیمی بل قومی اسمبلی کمیٹی سے منظور

News Image
قومی اسمبلی کی متعلقہ کمیٹی نے اسلام آباد کے بلدیاتی ڈھانچے میں تبدیلیوں سے متعلق بل کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے قانون سازوں نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے اختلافی نوٹ جمع کرانے کا اعلان کیا ہے۔
اسلام آباد کے بلدیاتی نظام میں اہم تبدیلیوں سے متعلق ایک نیا بل قومی اسمبلی کی متعلقہ کمیٹی کے اجلاس میں کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ہے۔ اس اہم پیشرفت کے بعد دارالحکومت کے انتظامی اور بلدیاتی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیوں کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ کمیٹی کے اجلاس کے دوران اس بل پر اراکین کے درمیان تفصیلی بحث ہوئی جس میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے اپنے اپنے مؤقف کا بھرپور اظہار کیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق کمیٹی کے آٹھ ارکان نے بل کے حق میں ووٹ دیا اور اس کی منظوری کی حمایت کی۔ تاہم تمام اراکین اس فیصلے پر متفق نہیں تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چار قانون سازوں نے اس بل کی سخت مخالفت کی اور اسے مسترد کرتے ہوئے اپنی اختلافِ رائے کا برملا اظہار کیا۔ پی پی پی ارکان کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کی ترامیم سے بلدیاتی نظام کے بنیادی ڈھانچے پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اجلاس کے اختتام پر پی پی پی کے رہنما نے میڈیا اور کمیٹی کو بتایا کہ ان کی جماعت اس بل کے خلاف باضابطہ طور پر اپنا اختلافی نوٹ کمیٹی میں جمع کرائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی اس بل کے بعض شقوں پر شدید تحفظات رکھتی ہے اور جمہوری عمل کے تحت اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔ اس اختلاف کے باوجود کثرت رائے کی بنیاد پر بل کو آگے بڑھانے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اب اس بل کو باقاعدہ پارلیمانی کارروائی کے اگلے مراحل کے لیے پیش کیا جائے گا جہاں اس پر مزید بحث اور قانون سازی کا عمل مکمل ہوگا۔ اس بلدیاتی ترمیمی بل پر سیاسی حلقوں میں بھی چہ مگوئیاں شروع ہو چکی ہیں اور آنے والے دنوں میں اس پر مزید سیاسی گرما گرمی دیکھنے کو مل سکتی ہے کیونکہ اسلام آباد کا بلدیاتی نظام ہمیشہ سے ہی ایک حساس اور اہم سیاسی موضوع رہا ہے۔