LIVE
Loading Breaking News...

مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ ہراسانی کیس میں نئے نوٹس جاری

News Image
اداکارہ مومنہ اقبال اور مسلم لیگ ن کے ایم پی اے ثاقب چدھڑ کے ہراسانی کیس میں نئے ڈیجیٹل شواہد سامنے آنے کے بعد متعلقہ حکام نے دونوں کو نئے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جسے ایک ماہ کے اندر اپنی انکوائری مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اداکارہ مومنہ اقبال اور مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی (ایم پی اے) ثاقب چدھڑ کے درمیان مبینہ ہراسانی کے معاملے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکام نے کیس کے حوالے سے چند نئے ڈیجیٹل شواہد موصول ہونے کے بعد دونوں شخصیات کو باضابطہ طور پر نئے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ان شواہد کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو تمام پہلوؤں کا احاطہ کرے گی۔ ذرائع کے مطابق تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ ایک ماہ کے اندر اندر اپنی تفتیش مکمل کرے اور رپورٹ پیش کرے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل شواہد کی فارنزک جانچ کے بعد کیس کی نوعیت مزید واضح ہوگی، جس کی روشنی میں قانون کے مطابق اگلا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ اس پیش رفت نے معاملے کو ایک بار پھر سرخیوں میں لے آڑا ہے اور عوامی سطح پر بھی اس کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ دوسری جانب اس کیس کے سلسلے میں قانونی محاذ پر بھی ہلچل تیز ہو چکی ہے۔ اطلاعات کے مطابق این سی سی آئی اے (NCCIA) کی جانب سے گرفتاری کے خدشات اور قانونی کارروائی کے پیش نظر ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے اپنی ضمانت واپس لے لی گئی ہے۔ معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے وکلاء اور قانونی ماہرین کی نگاہیں بھی اس ایک ماہ کی تحقیقات پر مرکوز ہیں تاکہ آئندہ کی عدالتی کارروائی کا قبل از وقت اندازہ لگایا جا سکے۔ مومنہ اقبال کے مداحوں اور عوام کی جانب سے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف سیاسی حلقوں میں بھی اس کیس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ آنے کے بعد ہی یہ طے ہو گا کہ اس ہراسانی کیس میں قانونی کارروائی کا اگلا رخ کیا ہوگا۔ تمام متعلقہ ادارے اس معاملے کو شفاف طریقے سے نمٹانے کے لیے کوشاں ہیں تاکہ حقائق قوم کے سامنے لائے جا سکیں۔