Politics
حکومت اور جماعتِ اسلامی مذاکرات، مہنگائی اور فیول لیوی پر بات چیت
حکومت اور جماعتِ اسلامی کے مابین حالیہ مذاکرات میں مسائل کے حل کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ تاہم جماعتِ اسلامی نے اپنے مطالبات کی منظوری تک ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کا سلسلہ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
اسلام آباد میں حکومت اور جماعتِ اسلامی کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کے خاتمے اور عوامی مسائل پر بات چیت کے لیے ایک اہم مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال اور جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے مشترکہ طور پر میڈیا سے گفتگو کی اور ملک کی موجودہ معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ فریقین کے مابین اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ عوام کو درپیش مشکلات بالخصوص مہنگائی اور فیول لیوی کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے بات چیت کے دروازے کھلے رکھے جائیں گے۔ملاقات کے دوران جماعتِ اسلامی نے پٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری لیوی اور ٹیکسوں کے خاتمے کا پرزور مطالبہ کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ مہنگائی کے اس دور میں عام آدمی شدید مالی دباؤ کا شکار ہے اور حکومتی پالیسیوں نے غریب عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ وفاقی وزراء نے جماعتِ اسلامی کے مؤقف کو سنا اور یقین دلایا کہ حکومت عوامی ریلیف کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے اور معاشی اصلاحات کے عمل میں تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مکالمے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔مذاکرات کے مثبت آغاز کے باوجود جماعتِ اسلامی نے واضح کیا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات عملی طور پر تسلیم نہیں کیے جاتے، ملک بھر میں احتجاجی دھرنوں اور جلسے جلوسوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ جماعت کی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ صرف زبانی جمع خرچ پر اکتفا نہیں کریں گے بلکہ عوامی حقوق کے حصول کے لیے پرامن احتجاج ان کا جمہوری حق ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت اور جماعتِ اسلامی کے درمیان یہ مذاکرات ایک مثبت قدم ہیں، جس سے پارلیمانی اور سیاسی سطح پر کشیدگی میں کمی آسکتی ہے، تاہم حتمی کامیابی دونوں فریقین کی لچک اور عملی اقدامات پر منحصر ہوگی۔