LIVE
Loading Breaking News...

مکرمہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدہ اور تزویراتی تبدیلیاں - یو او ایل کانفرنس

News Image
یونیورسٹی آف لاہور میں منعقدہ ایک اہم کانفرنس کے دوران پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے مابین طے پانے والے مکرمہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے کے تزویراتی اثرات کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا۔ اس دفاعی معاہدے کے تحت ایک باضابطہ سیکرٹریٹ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کی سربراہی ابتدائی تین سال تک پاکستان کرے گا۔
یونیورسٹی آف لاہور (یو او ایل) کے زیر اہتمام حال ہی میں ایک خصوصی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس کا بنیادی مقصد مکرمہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے کے تزویراتی اور جغرافیائی سیاسی اثرات کا تفصیلی تجزیہ کرنا تھا۔ کانفرنس کے دوران ماہرین نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے مابین یہ دفاعی معاہدہ خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس اہم نشست میں شریک دفاعی تجزیہ کاروں اور ماہرینِ بین الاقوامی تعلقات نے اس امر کو سراہا کہ مسلم دنیا کے ان تین اہم ممالک کا ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا خطے کی سلامتی کے لیے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ کانفرنس میں اس بات پر بھی خصوصی گفتگو کی گئی کہ اس عسکری اشتراک کو محض ایک روایتی معاہدے کے بجائے ایک مستقل اور فعال ادارے کی شکل دی جا رہی ہے جو مستقبل کے خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے مشترکہ حکمت عملی وضع کرے گا۔ وزارتِ خارجہ کے حوالے سے تقریب میں یہ نکتہ بھی زیرِ بحث آیا کہ اس دفاعی اتحاد کو باضابطہ طور پر ادارہ جاتی شکل دی جائے گی جس کے تحت ایک مستقل سیکرٹریٹ قائم کیا جائے گا۔ اس سیکرٹریٹ کی قیادت اور سربراہی کے پہلے تین سال کی مدت کے لیے پاکستان کو منتخب کیا گیا ہے جو کہ ملک کی سفارتی اور عسکری صلاحیتوں پر عالمی اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس معاہدے سے نہ صرف تینوں برادر ملکوں کے مابین عسکری تعاون میں اضافہ ہوگا بلکہ دفاعی پیداوار، انٹیلی جنس شیئرنگ اور انسدادِ دہشت گردی کے شعبوں میں بھی نئے راہیں کھلیں گی۔ تقریب کے اختتام پر مقررین نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ سہ فریقی اتحاد خطے میں امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے فروغ میں انتہائی کلیدی کردار ادا کرے گا اور اس کے مثبت نتائج جلد ہی عملی طور پر سامنے آئیں گے۔