LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ، وجہ سامنے آ گئی

News Image
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکہ و ایران تصادم کے اثرات کے پیش نظر حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں دو روپیہ چوراسی پیسے اضافہ کر دیا۔ نئی قیمتوں کا اطلاق ستمبر کی چار تاریخ سے کر دیا گیا ہے جس سے مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی جنگی صورتحال کے اثرات اب براہ راست پاکستانی معیشت اور عام صارف پر پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ کے بعد حکومتِ پاکستان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں دو روپیہ چوراسی پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں دو روپیہ اٹھائیس پیسے فی لیٹر اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ملک بھر میں صارفین کے لیے نئی قیمتیں نافذ العمل ہو چکی ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی نے عالمی سپلائی چین کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں بین الاقوامی سطح پر تیل کی ترسیل کے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔ پاکستان جو اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس عالمی بحران کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ حکومت کی جانب سے قیمتوں میں اس اضافے کو ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے تاکہ ملکی معیشت پر پڑنے والے اضافی بوجھ کو کم کیا جا سکے۔ تاہم، عوامی حلقوں اور کاروباری برادری کی طرف سے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار اضافہ روزمرہ کی زندگی کو مزید اجیرن بنا رہا ہے۔ ٹرانسپورٹرز اور کسانوں کا ماننا ہے کہ ڈیزل اور پیٹرول مہنگا ہونے سے نہ صرف پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھیں گے بلکہ اشیائے خورونوش کی نقل و حمل بھی مہنگی ہو جائے گی، جس سے ملک میں مہنگائی کی ایک نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے اس صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور یہ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اگر بین الاقوامی مارکیٹ میں حالات بہتر ہوتے ہیں تو آئندہ جائزے میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔