Business
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مستحکم، مشرق وسطیٰ کشیدگی کا اثر
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مشرق وسطیٰ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی اور روس یوکرین امن معاہدے کے امکانات کے باعث ملے جلے رجحان کا شکار ہیں۔ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ جبکہ برینٹ آئل کے نرخوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے کیونکہ سرمایہ کار ایک طرف مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے سپلائی پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں تو دوسری طرف روس اور یوکرین کے درمیان امن معاہدے کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں منڈی میں ملا جلا رجحان پایا جاتا ہے اور مختلف بینچ مارکس کے نرخ مختلف سمتوں میں حرکت کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں جاری تنازعات اور سپلائی سے جڑے خدشات نے تیل کے خریداروں کو محتاط کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اکتوبر ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کا کنٹریکٹ انیس سینٹ یا صفر اعشاریہ تین فیصد اضافے کے ساتھ اکানو ڈالر اور تیس سینٹ فی بیرل پر بند ہوا۔ اس کے برعکس، نومبر برینٹ آئل کی قیمت میں تیتالیس سینٹ یا صفر اعشاریہ پانچ فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد یہ پچانوے ڈالر اور بیس سینٹ فی بیرل پر آگیا۔ قیمتوں میں اس طرح کا ملا جلا رجحان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ مارکیٹ کے شرکاء عالمی سطح پر رسد اور طلب کے توازن کے حوالے سے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی اور حملوں کی اطلاعات نے توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو تازہ کر دیا ہے، جس کی وجہ سے حال ہی میں تیل کی قیمتیں چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق رسد کے خدشات کی وجہ سے تیل کے نرخوں میں چار فیصد تک کا نمایاں اضافہ بھی دیکھا گیا تھا تاہم امن معاہدوں کی امیدیں اس تیزی کو کچھ حد تک اعتدال پر لا رہی ہیں۔
آئندہ دنوں میں تیل کی مارکیٹ کی سمت کا دارومدار مشرق وسطیٰ کے زمینی حالات اور روس یوکرین جنگ کے سفارتی حل پر ہوگا۔ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اچھال آ سکتا ہے، جبکہ امن مذاکرات میں پیشرفت تیل کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے یا نیچے لانے کا باعث بن سکتی ہے۔ عالمی معیشت سے وابستہ ادارے اور سرمایہ کار اس پورے منظر نامے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔