LIVE
Loading Breaking News...

نوکری کے فراڈ اور جعلی ایپس کے ذریعے مالی نقصان کی خبر

News Image
نوکری کے متلاشی نوجوان جعلی بھرتی کی ایپلی کیشنز کا نشانہ بن رہے ہیں جس کے نتیجے میں انہیں شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس خطرناک فراڈ میں نئی نسل خصوصاً جن زی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
آج کے اس دور میں جہاں ٹیکنالوجی نے زندگی کو آسان بنایا ہے، وہیں دوسری طرف آن لائن فراڈ اور دھوکہ دہی کے طریقوں میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ خاص طور پر نوکری کے متلاشی نوجوان اور نئی نسل، جسے جن زی کہا جاتا ہے، اس وقت سائبر مجرموں کے نشانے پر ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جہاں نوکری کے جعلی انٹرویو کے نام پر معصوم شہریوں اور نوجوانوں کی زندگیاں اور ان کی جمع پونجی داؤ پر لگ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق فراڈ کرنے والے عناصر اب انتہائی جدید اور نفیس طریقے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ دھوکہ باز جعلی نوکری کی پیشکش کرتے ہیں اور پھر امیدواروں کو ایک مخصوص ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے پر مجبور کرتے ہیں جو کہ دراصل ایک بوپی ٹریپ یا مالویئر پر مشتمل سافٹ ویئر ہوتی ہے۔ جب یہ ایپلی کیشنز موبائل یا کمپیوٹر میں انسٹال ہو جاتی ہیں تو فراڈ کرنے والے اسانی سے ذاتی معلومات، بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات اور تمام جمع پونجی تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ متاثرہ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ انہیں انٹرویو کے دوران بالکل اصلی ہونے کا احساس دلایا گیا تھا تاکہ کسی قسم کا کوئی شک نہ گزرے۔ اس سنگین صورتحال نے ملک بھر کے ماہرینِ معاشیات اور سائبر سیکیورٹی اداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی طرف سے بار بار خبردار کیا جا رہا ہے کہ کسی بھی آن لائن کمپنی یا ادارے کی طرف سے ملنے والی نوکری کی پیشکش کو قبول کرنے سے پہلے اس کی مکمل تحقیق کی جائے۔ شہریوں کو بالخصوص یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نامعلوم ذرائع سے آنے والی ایپلی کیشنز کو اپنے آلات میں ہرگز انسٹال نہ کریں اور مالی لین دین سے گریز کریں۔