Business
فوکس ویگن کا بڑا فیصلہ، مزید پچاس ہزار نوکریاں ختم کرنے کی منظوری
جرمن کار ساز ادارے فوکس ویگن کے بورڈ نے سال دو ہزار تیس تک مزید پچاس ہزار ملازمتیں ختم کرنے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ اس گروپ میں آڈی، پورش اور اسکوڈا سمیت مختلف برانڈز شامل ہیں جو مجموعی طور پر ایک لاکھ نوکریاں کم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
عالمی شہرت یافتہ جرمن کار ساز ادارے فوکس ویگن (Volkswagen) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے ایک اہم اور بڑے فیصلے کے تحت مزید پچاس ہزار ملازمتیں ختم کرنے کے منصوبے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ اس کڑے فیصلے کا مقصد بڑھتے ہوئے مالیاتی دباؤ کا مقابلہ کرنا اور کمپنی کے کاروباری ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ عالمی آٹوموبাইল مارکیٹ میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور روایتی گاڑیوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طرف منتقلی کے عمل نے کار ساز اداروں کے لیے اخراجات پر قابو پانا لازمی قرار دے دیا ہے۔
فولkswagen گروپ، جس کے دائرہ کار میں آڈی (Audi)، پورش (Porsche) اور اسکوڈا (Skoda) جیسے نامور برانڈز کے علاوہ خود مرکزی وی ڈبلیو (VW) برانڈ بھی شامل ہے، کی جانب سے اس سے قبل بھی ملازمین کی تعداد میں کمی کے اشارے دیے گئے تھے۔ اس نئے اور وسیع تر منصوبے کے تحت کمپنی کا ہدف ہے کہ سال دو ہزار تیس تک مجموعی طور پر ایک لاکھ ملازمتیں کم کی جائیں۔ اس ہدف کے حصول کے لیے انتظامیہ مختلف شعبوں میں اخراجات میں کٹوتی اور پیداواری عمل کو مزید موثر بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
ملازمتوں میں اس بڑی کٹوتی کے فیصلے سے ملازمین کی تنظیموں اور یونینز کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے، تاہم کمپنی کی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ موجودہ معاشی چیلنجز اور مسابقتی ماحول میں بقا کے لیے یہ سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔ آٹوموبাইল انڈسٹری کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کے لیے بھاری سرمایہ کاری اور یورپی مارکیٹ میں طلب میں کمی کی وجہ سے روایتی کار ساز کمپنیوں کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔
آنے والے دنوں میں فوکس ویگن انتظامیہ اور مزدور یونینز کے درمیان اس منصوبے کے نفاذ اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے اہم مذاکرات متوقع ہیں۔ کمپنی اس بات کی کوشش کر رہی ہے کہ نوکریوں میں کمی کے عمل کو حتی الامکان رضاکارانہ ریٹائرمنٹ اور دیگر متبادل طریقوں سے حل کیا جائے تاکہ کارپوریشن کے ملازمین پر پڑنے والے منفی اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔