Pakistan
سندھ اسمبلی میں صوبے کی تقسیم کی مخالفت میں قرارداد منظور
سندھ اسمبلی کے اجلاس میں صوبے کی تقسیم کی کسی بھی کوشش کے خلاف ایک اہم قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان نے سندھ کی وحدت اور سلامتی کے حق میں بھرپور عزم کا اظہار کیا۔
کراچی: سندھ اسمبلی کے ایک انتہائی اہم اجلاس کے دوران ایوان نے صوبے کی تقسیم کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ اس قرارداد کے حق میں تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان نے اپنی آواز بلند کی اور واضح کیا کہ سندھ کی جغرافیائی حدود اور اس کی تاریخی شناخت پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اس موقع پر ایوان کے اندر موجود اراکین نے سندھ کی یکجہتی اور بین المذاہب و بین الکلسچر ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
قرارداد کے متن میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سندھ ایک تاریخی اور ثقافتی اکائی ہے جس کی اپنی ایک الگ پہچان ہے اور اس کی تقسیم کی کوئی بھی کوشش اس خطے کے عوام کے لیے ناقابل قبول ہوگی۔ تمام اراکین اسمبلی نے اس بات پر اتفاق کیا کہ صوبے کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے تمام عزائم کو سیاسی اور جمہوری سطح پر ناکام بنایا جائے گا۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف صوبائی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے بلکہ ملک کی فیڈریشن کو بھی کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی۔
اجلاس کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں نے اپنے خطابات میں اس عزم کا اظہار کیا کہ سندھ کے عوام اپنی دھرتی اور اس کی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی ہر سازش کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا اور سندھ اسمبلی نے آج جس یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے وہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ یہاں کے منتخب نمائندے اپنے صوبے کے مفادات کے تحفظ کے لیے پوری طرح بیدار اور متفق ہیں۔
اس متفقہ قرارداد کی منظوری کے بعد سندھ بھر کے سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے بھی اس اقدام کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے۔ شہریوں اور مختلف تنظیموں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے فیصلے صوبے میں امن اور استحکام کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ سندھ اسمبلی کا یہ فیصلہ نہ صرف پارلیمانی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ یہ اس خطے کے عوام کی اجتماعی امنگوں کی بھی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔