Business
پاکستان کا معاشی بحران، برآمدات بڑھانے کے لیے ADB کی معاونت طلب
حکومت پاکستان نے معاشی بحران پر قابو پانے کے لیے برآمدات میں اضافے کو ناگزیر قرار دیا ہے۔ اس سلسلے میں ایشیائی ترقیاتی بینک سے تکنیکی تعاون اور اقتصادی مہارت حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔
حکومت پاکستان نے واضح کیا ہے کہ ملک کو درپیش موجودہ معاشی اور وجودی بحرانوں سے باہر نکالنے کا واحد اور بہترین راستہ برآمدات میں تیزی سے اضافہ کرنا ہے۔ ملکی معیشت کے استحکام کے لیے حکومتی سطح پر جاری کوششوں کے دوران اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ ملکی برآمدات کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھال کر تجارتی خسارے پر قابو پایا جائے گا۔ اسی مقصد کے تحت پاکستان نے ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) سے باضابطہ طور پر رابطہ کیا ہے تاکہ معاشی اصلاحات اور برآمدی شعبے کی بہتری کے لیے ان کی فنی مہارت اور تجارتی تجربے سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔
حکام کے مطابق، ایشیائی ترقیاتی بینک پاکستان کا دیرینہ اقتصادی پارٹنر ہے اور بینک کی جانب سے پہلے بھی متعدد ترقیاتی منصوبوں میں معاونت فراہم کی جاتی رہی ہے۔ موجودہ صورتحال میں جب ملک کو زرمبادلہ کے ذخائر اور تجارتی توازن میں چیلنجز کا سامنا ہے، حکومت برآمداتی صنعتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی خواہاں ہے۔ اس تعاون کا مقصد چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں (SMEs) کو عالمی منڈیوں تک رسائی دینا، پیداواری صلاحیت کو بڑھانا اور برآمدی پراڈکٹس کے تنوع کو فروغ دینا ہے تاکہ ملکی برآمدات میں پائیدار بنیادوں پر اضافہ ممکن ہو سکے۔
ماہرین اقتصادیات کا بھی یہی ماننا ہے کہ روایتی برآمدات پر انحصار کم کرکے نئی مارکیٹس کی تلاش اور ویلیو ایڈڈ پروڈکٹس کی تیاری وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ ہونے والی ان مشاورتوں کے نتیجے میں پالیسی سازی میں بہتری متوقع ہے، جس سے نہ صرف صنعتی شعبے کو فروغ ملے گا بلکہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو بھی راغب کرنے میں مدد ملے گی۔ حکومت پرامید ہے کہ ان اصلاحات اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے ملکی معیشت کو طویل مدتی استحکام نصیب ہوگا اور برآمدات ملکی ترقی کا نیا انجن بنیں گی۔