LIVE
Loading Breaking News...

جے ڈی وینس کا ایران تنازع پر اہم بیان، جنگ قرار دینے سے انکار

News Image
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری موجودہ کشیدگی کو باقاعدہ جنگ نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے اس تنازع کے خاتمے کے حوالے سے کسی بھی قسم کی حتمی ٹائم لائن دینے سے گریز کیا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور عسکری کارروائیوں کے تناظر میں ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال کو باقاعدہ 'جنگ' قرار نہیں دیا جا सकता۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق، جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ آیا یہ تنازع امریکی مڈٹرم انتخابات سے پہلے حل ہو جائے گا یا اس کا حتمی نتیجہ کب تک سامنے آئے گا، تو انہوں نے اس حوالے سے کسی بھی قسم کی حتمی ٹائم لائن یا تاریخ دینے سے گریز کیا۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق جے ڈی وینس نے حال ہی میں ہونے والے ایک امریکی حملے کے بارے میں بھی بات کی جس میں مبینہ طور پر شادی کی تقریب کو نشانہ بنائے جانے کی خبریں سامنے آئی تھیں۔ انہوں نے اس واقعے پر انتہائی شکوک و شبہات کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ موجودہ عسکری اقدامات کو روایتی معنوں میں جنگ نہیں کہا جا سکتا، بلکہ یہ مخصوص اہداف کے حصول کے لیے کیے جانے والے اقدامات ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ وینس کا یہ بیان واشنگٹن کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ تنازع کو وسعت دینے سے گریزاں ہے اور عسکری مصروفات کو محدود رکھنا چاہتا ہے۔ اس کے باوجود، اس بحران کے خاتمے کے لیے کسی واضح لائحہ عمل یا وقت کا تعین نہ کیے جانے کی وجہ سے بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ مستقبل کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کا مؤقف تاحال محتاط ہے جبکہ عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام آپشنز تاحال میز پر موجود ہیں۔ دنیا بھر کے سیاسی تجزیہ کار اس بیان کے دور رس نتائج کا جائزہ لے رہے ہیں کیونکہ اس تنازع کا خطے کے امن اور عالمی معیشت پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔