Business
سپریم کورٹ کا بینکنگ عدالتوں کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ
سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بینکنگ عدالتوں کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ ایسا مارک اپ دیں جس کا دعویٰ نہ کیا گیا ہو۔ عدالت نے اس حوالے سے واضح کیا کہ عدالتیں طے شدہ دائرہ اختیار سے باہر جاکر فیصلے صادر نہیں کر سکتیں۔
اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے بینکنگ عدالتوں کے دائرہ اختیار کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور واضح فیصلہ جاری کیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں دوٹوک الفاظ میں قرار دیا ہے کہ بینکنگ عدالتوں کو یہ قانونی اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی بھی ایسے مارک اپ کا ایوارڈ دیں جس کے لیے باقاعدہ دعویٰ دائر نہ کیا گیا ہو۔ اس فیصلے کے بعد بینکاری اور مالیاتی تنازعات کے حل میں مزید شفافیت آنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
عدالت کا یہ فیصلہ اس نکتہ پر روشنی ڈالتا ہے کہ عدالتی کارروائی کے دوران فریقین کے مابین طے شدہ شرائط اور دائر کردہ دعوؤں کی حدود میں رہ کر ہی فیصلے صادر کیے جانے چاہئیں۔ قانون کے مطابق عدالتیں خود سے ایسے مالیاتی فوائد یا مارک اپ کی رقم فریقین کو نہیں دلا سکتیں جن کا ذکر اصل دعوے میں موجود نہ ہو۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بینکنگ کے شعبے اور مالیاتی تنازعات میں عدالتی فیصلوں کے لیے ایک اہم نظیر کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس فیصلے سے ملک بھر کی بینکنگ عدالتوں کے ججوں اور قانونی ماہرین کو یہ رہنمائی ملے گی کہ وہ مقدمات کی سماعت کے دوران مالیاتی دعوؤں اور مارک اپ کے تنازعات کا فیصلہ کرتے وقت قواعد و ضوابط کی سختی سے پابندی کریں۔ بینکاری اور تجارتی حلقوں کی جانب سے عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کو سراہا جا رہا ہے کیونکہ اس سے عدالتی فیصلوں میں یکساں پن اور قانونی تقاضوں کی بہتر انداز میں تکمیل یقینی ہوسکے گی۔