World
بلاول بھٹو کی شادی کی افواہیں اور حقیقت
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھutto زرداری کی آسٹرین شہزادی سے شادی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا گیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے ان افواہوں کو محض ایک تماشا اور جھوٹا پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر گزشتہ چند روز سے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی شادی سے متعلق انتہائی دلچسپ اور من گھڑت افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ بلاول بھٹو کسی یورپی شہزادی یا آسٹرین شاہی خاندان کی شخصیت سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے جا رہے ہیں۔ ان خبروں نے نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی میڈیا بالخصوص بھارتی میڈیا پر بھی خاصی توجہ حاصل کی، جہاں مختلف اندازے لگائے جا رہے تھے۔
تاہم، ان تمام قیاس آرائیوں اور خبروں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے ذمہ دار رہنماؤں نے ان تمام اطلاعات کو سراسر جھوٹ، بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔ ذرائع اور پارٹی ترجمانوں کے مطابق، سوشل میڈیا پر چلنے والی یہ تمام کہانیاں حقیقت سے کوسوں دور ہیں اور ان میں ذرا برابر بھی صداقت نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے اسے مخالفین کی جانب سے پھیلایا گیا ایک سوشل میڈیا تماشا قرار دیا ہے جس کا مقصد صرف اور صرف عوام کی توجہ ہٹانا اور غیر مصدقہ سنسنی پھیلانا ہے۔
دوسری جانب، ذاتی مصروفیات کے حوالے سے خبریں یہ بھی ہیں کہ بلاول بھٹو زرداری پیرس سے اپنے سفر کے بعد لندن پہنچ چکے ہیں جہاں ان کے اہل خانہ بھی موجود ہیں۔ ان کے دورہ لندن اور خاندانی مصروفیات کو سیاسی حلقوں میں اہم نگاہوں سے دیکھا جا رہا ہے، تاہم شادی کی خبروں کے حوالے سے پارٹی کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ ایسی تمام خبریں محض افواہوں کے سوا کچھ نہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے اس دور میں بغیر کسی تحقیق کے اس قسم کی ذاتی نوعیت کی خبریں وائرل کرنا ایک معمول بن چکا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمانوں نے میڈیا اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس قسم کی غیر مصدقہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور کسی بھی خبر کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی مستند ذرائع سے تصدیق ضرور کریں۔ بلاول بھٹو زرداری اس وقت اپنے سیاسی اور تنظیمی امور پر مکمل توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور ان کی شادی سے متعلق تمام تر باتیں محض فرضی کہانیاں ہیں۔