LIVE
Loading Breaking News...

زاویئر میلی کا فاک لینڈ جزائر پر دعویٰ اور تیل کی کمپنیوں کو انتباہ

News Image
ارجنٹائن کے صدر زاویئر میلی نے برطانوی سمندر پار علاقے فاک لینڈ جزائر پر اپنے ملک کا دعویٰ ایک بار پھر شدت سے دہرایا ہے۔ انہوں نے تیل کی کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس تنازعے میں فریق بننے سے گریز کریں۔
ارجنٹائن کے صدر زاویئر میلی نے ایک بار پھر برطانوی سمندر پار علاقے فاک لینڈ جزائر (جنہیں ارجنٹائن میں لاس مالویناس کہا جاتا ہے) پر اپنے ملک کے دیرینہ دعوے کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا ہے۔ صدر میلی کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی حالات اور تبدیل ہوتی ہوئی ہوائیں ارجنٹائن کے اس مؤقف کے حق میں سازگار ثابت ہو رہی ہیں، اور ملک اپنے اس مؤقف سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا۔ اس بیان نے ایک ایسے وقت میں بین الاقوامی توجہ حاصل کی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان اس خطے کی ملکیت پر کشیدگی پائی جاتی ہے۔ اپنے حالیہ پالیسی بیان کے دوران ارجنٹائن کے صدر نے متنبہ کیا کہ جو تیل کمپنیاں برطانوی حکومت کی اجازت سے فاک لینڈ جزائر کے متنازعہ سمندری خطے میں تیل کی تلاش یا نکالنے کے منصوبوں میں حصہ لے رہی ہیں، انہیں ارجنٹائن کی جانب سے سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ارجنٹائن اپنی سمندری حدود اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے تمام ضروری قانونی اور سفارتی اقدامات اٹھانے کا مکمل حق رکھتا ہے اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث اداروں کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ فاک لینڈ جزائر کا تنازعہ ارجنٹائن اور برطانیہ کے درمیان ایک طویل عرصے سے تناؤ کی بڑی وجہ رہا ہے۔ سنہ 1982 میں دونوں ممالک کے درمیان اس خطے پر ایک مختصر لیکن خونریز جنگ بھی لڑی جا چکی ہے، جس میں برطانیہ نے کامیابی حاصل کی تھی۔ تاہم، ارجنٹائن نے کبھی بھی سفارتی سطح پر اس جزیرے پر اپنے دعوے کو ترک نہیں کیا۔ صدر زاویئر میلی کی تازہ ترین دھمکی اور دعوے سے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک بار پھر ہلچل مچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ صدر میلی کی جانب سے یہ جارحانہ بیانیہ دراصل ملکی سیاست اور معاشی بحران کے دوران عوامی جذبات کو ابھارنے کی ایک کوشش بھی ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، برطانیہ نے ماضی کی طرح اس قسم کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فاک لینڈ جزائر کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے رہائشیوں کی مرضی کے مطابق کیا جائے گا، جو برطانوی شہری رہنا چاہتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر سفارتی محاذ پر مزید گرما گرمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔