LIVE
Loading Breaking News...

امریکی سینیٹ کوویڈ ابتدا بحث ڈاکٹر فوسی

News Image
امریکی سینیٹ میں ڈاکٹر انتھونی فوسی کی حالیہ سماعت کے دوران کوویڈ نائنٹین کی ابتدا کے حوالے سے جاری مباحثے میں ایک بار پھر شدت آگئی ہے۔ اس پیشی سے کورونا وائرس کے ماخذ سے متعلق طویل عرصے سے چلے آنے والے سیاسی اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔
امریکی سینیٹ میں ڈاکٹر انتھونی فوسی کی حالیہ پیشی نے کورونا وائرس کی ابتدا کے تنازع کو ایک بار پھر دنیا بھر میں موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔ اس اہم ترین سماعت نے اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ وائرس کے ماخذ کے معاملے پر امریکی سیاسی حلقوں میں پایا جانے والا گہرا خلیج اور partisan divide اب بھی بدستور برقرار ہے۔ اس معاملے پر سالوں سے بحث جاری ہے جو اکثر سیاسی بنیادوں پر تقسیم دکھائی دیتی ہے اور اس کو وائٹ ہاؤس کے گمراہ کن دعوؤں نے مزید ہوا دی ہے۔ سماعت کے دوران ریپبلکن اور ڈیموکریٹ ارکان کے درمیان شدید جملوں کا تبادلہ ہوا جہاں فریقین نے وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے حکومتی حکمت عملی اور سائنسی اداروں کے کردار پر کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ ریپبلکن قانون سازوں کا اصرار تھا کہ اس بات کی تہہ تک پہنچا جائے کہ آیا وائرس کسی لیبارٹری سے لیک ہوا تھا یا قدرتی طور پر جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا تھا۔ دوسری طرف، ماہرین اور حامیوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس قسم کے الزامات کا کوئی ٹھوس سائنسی ثبوت موجود نہیں ہے اور اس سے صرف عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس تازہ ترین سماعت کے نتیجے میں کوئی نیا حتمی ثبوت یا اہم پیش رفت سامنے نہیں آ سکی ہے، جس کی وجہ سے یہ مباحثہ طویل اور غیر نتیجہ خیز معلوم ہوتا ہے۔ کوویڈ نائنٹین کی ابتدا کا مسئلہ عالمی سطح پر سائنس اور سیاست کے سنگم پر کھڑا ایک انتہائی پیچیدہ موضوع بن چکا ہے جہاں سیاسی مفادات اکثر سائنسی حقائق پر حاوی نظر آتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مبینہ بیانات اور ان کے اثرات نے اس بحث کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے جس سے فوری طور پر کسی شفاف نتیجے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ مستقبل میں اس قسم کے پارلیمانی مباحثے اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ سائنسی تحقیقات کو سیاسی دباؤ سے الگ رکھا جائے تاکہ عالمی سطح پر آنے والی کسی بھی ممکنہ وبا سے بہتر طریقے سے نمٹا جا سکے۔ ڈاکٹر فوسی کی یہ پیشی اگرچہ کورونا وائرس کے ماخذ کے حوالے سے کوئی نیا موڑ نہیں لا سکی، تاہم اس نے اس بات کو ضرور اجاگر کیا ہے کہ سائنسی شفافیت اور سیاسی احتساب کے درمیان توازن قائم کرنا کتنا مشکل اور ضروری کام ہے۔ دنیا بھر کی طبی برادری اور عام عوام اب بھی اس بات کے منتظر ہیں کہ اس تاریخی عالمی بحران کی اصل وجوہات تک مکمل اور غیر جانبدارانہ رسائی حاصل ہو۔