LIVE
Loading Breaking News...

نئے مکانات میں نقائص اور نمی کا مسئلہ، خاندان منتقل ہونے پر مجبور

News Image
برطانیہ میں نئے تعمیر شدہ مکانات میں تعمیری نقائص، نمی اور پھپھوندی کی شکایات میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ درجنوں متاثرہ خاندانوں نے بی بی سی سے رابطہ کیا ہے جبکہ امbudsman کو موصول ہونے والی شکایات سال بھر میں تین گنا بڑھ گئی ہیں۔
برطانیہ میں نئے تعمیر شدہ مکانات کے مکینوں کو اس وقت شدید ذہنی اور جسمانی اذیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جب ان کے خوابوں کے گھر 'ڈراؤنے خواب' میں تبدیل ہو گئے۔ درجنوں خاندان اپنے نئے گھروں کو چھوڑ کر دوسری جگہ منتقل ہونے پر مجبور ہو چکے ہیں کیونکہ ان کی رہائش گاہیں سنگین تعمیری نقائص، شدید نمی اور خطرناک پھپھوندی کی لپیٹ میں ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف املاک کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ مکینوں بالخصوص بچوں اور بزرگوں کی صحت کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ متاثرہ افراد کی ایک بڑی تعداد نے بی بی سی کے پروگرام 'یور وائس' سے رابطہ کر کے اپنی آپ بیتی سنائی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، مکانات کے حوالے سے قائم کردہ احتساب ادارے (اومبس مین) کو موصول ہونے والی شکایات کی تعداد میں گذشتہ ایک سال کے دوران تین گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ ان شکایات میں ناقص تعمیراتی میٹریل کا استعمال، پانی کا رساؤ، کھڑکیوں اور چھتوں سے پانی ٹپکنا اور دیواروں پر پھپھوندی کا پھیلنا شامل ہے جس کی وجہ سے گھروں میں سانس کی بیماریاں اور دیگر طبی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ ماہرین اور متاثرہ مکینوں کا کہنا ہے کہ تعمیراتی کمپنیوں کی جانب سے تیزی اور منافع کی ہوس میں معیار کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ گھر خریدنے والے جب اپنی زندگی بھر کی جمع پੂੰجی ان نئے مکانات پر لگاتے ہیں تو وہ ایسی مشکلات کی توقع ہرگز نہیں کرتے۔ اس بحران کے بعد اب حکومت اور متعلقہ اداروں پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ بلڈرز کے خلاف سخت ضابطہ اخلاق نافذ کریں اور متاثرہ خاندانوں کو فوری معاوضہ اور متبادل رہائش فراہم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔