LIVE
Loading Breaking News...

راتکو ملاڈچ کی لاش سربیا منتقلی اور فوجی اعزاز کی تفصیلات

News Image
جنگی مجرم قرار دیے جانے والے راتکو ملاڈچ کی لاش بیلগ্রেڈ پہنچا دی گئی ہے جہاں انہیں سربیا کی جانب سے مکمل فوجی اعزازات دیے گئے۔ اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور سیاسی حلقوں میں اس پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
بوسنیا کے سابق سرب کمانڈر اور بین الاقوامی عدالت کی طرف سے جنگی جرائم کے مجرم قرار دیے جانے والے راتکو ملاڈچ کی لاش دارالحکومت بیلগ্রেড پہنچا دی گئی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، سربیا کے حکام کی جانب سے ان کی میت کو مکمل فوجی گارڈ اور اعزاز کے ساتھ ریسیو کیا گیا، جس پر عالمی سطح پر مختلف قسم کے ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ راتکو ملاڈچ کو 1990 کی دہائی کی بلقان جنگ کے دوران ہونے والے مظالم اور بالخصوص سربرینیتسا قتل عام میں ان کے کردار کی وجہ سے مجرم ٹھہرایا گیا تھا اور وہ عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔ سربیا میں ان کی میت کی منتقلی اور فوجی اعزازات کے اس عمل کو بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور متاثرہ خاندانوں کی جانب سے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، کیونکہ ناقدین کا ماننا ہے کہ جنگی مجرموں کو اس طرح کی پذیرائی دینا خطے کے امن اور مصالحتی عمل کے لیے نقصان دہ ہے۔ دوسری جانب، سربیا کے بعض حلقوں اور قوم پرستاروں کی طرف سے اس اقدام کو سراہا گیا ہے، جو انہیں اپنے ہیرو کے طور پر دیکھتے ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے اس موقع پر کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے بیلগ্রেড میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے تھے تاکہ تمام مراحل پرامن طریقے سے مکمل ہو سکیں۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب بلقان کے خطے میں ماضی کے تنازعات کے زخم اب بھی ہرے ہیں اور جنگی جرائم کے حوالے سے تاریخی حقائق پر سیاسی چپقلش بدستور جاری ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات خطے کے ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات اور باہمی اعتماد کی بحالی کے لیے مزید چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔