LIVE
Loading Breaking News...

مسوری سپریم کورٹ کا فیصلہ، ٹرمپ کی حمایت یافتہ نقشہ مسترد

News Image
مسوری کی سپریم کورٹ نے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے لیے ٹرمپ کی حمایت یافتہ نئی سیاسی نقشہ بندی پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ریپبلکنز نے اس فیصلے کو امریکی سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
امریکہ کی ریاست مسوری کی سپریم کورٹ نے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے لیے تیار کردہ اس سیاسی نقشے پر پابندی عائد کر دی ہے جسے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ عدالت کا یہ فیصلہ اس حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل مانا جا رہا ہے کیونکہ اس سے ریاست میں انتخابی حلقہ بندیوں کے پورے عمل پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ عدالت کی جانب سے یہ حکم ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انتخابات میں اب صرف چند ماہ کا ہی وقت باقی رہ گیا ہے۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور دونوں بڑی جماعتوں کی طرف سے اس پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ دوسری جانب اس فیصلے سے شدید متاثر ہونے والے ریپبلکنز نے اس عدالتی حکم کے خلاف فوری طور پر امریکہ کی وفاقی سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کا پختہ عزم ظاہر کیا ہے۔ ریپبلکن پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مجوزہ نقشے کے دفاع کے لیے تمام قانونی راستے اختیار کریں گے تاکہ انتخابی عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے اور ان کے سیاسی مفادات کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔ ان کا موقف ہے کہ یہ نقشہ ضابطے کے مطابق اور قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے بنایا گیا تھا لہذا اس پر پابندی لگانا جمہوریت اور انتخابی شفافیت کے خلاف ایک قدم ہے۔ اس پیشرفت نے امریکہ کی مجموعی ملکی سیاست میں تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے جہاں دونوں اہم جماعتیں یعنی ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز آئندہ آنے والے وسط مدتی انتخابات میں برتری حاصل کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں۔ انتخابی حلقہ بندیوں کا یہ تنازعہ صرف مسوری تک محدود نہیں ہے بلکہ ملک کی کئی دوسری ریاستوں میں بھی نقشوں کی درستگی اور انصاف پسندی پر طویل قانونی جنگیں جاری ہیں۔ اب سب کی نظریں امریکی سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہیں کہ وہ اس معاملے میں کیا حتمی فیصلہ صادر کرتی ہے اور آیا نچلی عدالت کے اس فیصلے کو برقرار رکھا جاتا ہے یا اسے کالعدم قرار دے دیا جاتا ہے۔