LIVE
Loading Breaking News...

کامن ویلتھ گیمز جیولن تھرو: پاتھیراجا فاتح، نیرج چوپڑا دوسرے نمبر پر

News Image
رومیش تھارنگا پاتھیراجا نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دولت مشترکہ کھیلوں میں جیولن تھرو کا گولڈ میڈل اپنے نام کر لیا۔ اس مقابلے میں بھارت کے نیرج چوپڑا نے سلور میڈل حاصل کیا جبکہ پاکستان کے نامور اولمپئن ارشد ندیم ابتدائی مراحل میں ہی باہر ہو گئے۔
دولت مشترکہ کھیلوں کے ایک انتہائی سنسنی خیز اور حمسہ ساز جیولن تھرو مقابلے میں رومیش تھارنگا پاتھیراجا نے تمام حریفوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے گولڈ میڈل اپنے نام کر لیا ہے۔ اس فائنل مقابلے پر دنیا بھر کے کھیلوں کے شائقین کی نظریں مرکوز تھیں کیونکہ اس میں جنوبی ایشیا کے صف اول کے ایتھلیٹس مد مقابل تھے۔ رومیش تھارنگا پاتھیراجا نے اپنی بہترین تکنیک اور قوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب سے زیادہ فاصلے تک نیزہ پھینکا اور سونے کا تمغہ جیت کر اپنے ملک کا نام روشن کیا۔ اس تاریخی کامیابی پر کھیلوں کے حلقوں کی طرف سے انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔دوسری طرف، اس کڑے مقابلے میں بھارت کے نامور جیولن تھروور اور اولمپک چیمپیئن نیرج چوپڑا نے بھی شاندار کھیل پیش کیا لیکن وہ گولڈ میڈل حاصل کرنے میں ناکام رہے اور انہیں سلور میڈل پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔ نیرج چوپڑا کی کارکردگی مجموعی طور پر تسلی بخش رہی اور انہوں نے دوسرے نمبر پر رہ کر چاندی کا تمغہ اپنے نام کیا۔ اگرچہ وہ سونے کا تمغہ جیتنے کے प्रबल दावेदार سمجھے جا رہے تھے، تاہم رومیش کی برتر کارکردگی نے بازی پلٹ دی۔اس مقابلے کا سب سے بڑا اپ سیٹ پاکستان کے مایہ ناز جیولن تھرو سٹار اور اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم کی ابتدائی مراحل میں ہی باہر ہو جانا تھا۔ ارشد ندیم سے پوری قوم اور کھیلوں کے شائقین کو انتہائی زیادہ توقعات وابستہ تھیں، لیکن وہ فٹنس کے مسائل یا دیگر وجوہات کی بنا پر اپنی روایتی فارم دکھانے میں ناکام رہے اور جلد ہی مقابلے سے باہر ہو گئے۔ ارشد ندیم کا اس طرح ابتدائی راؤنڈ میں باہر ہونا پاکستان کے لیے ایک بڑا دھماکہ اور مایوس کن لمحہ تھا، کیونکہ شائقین کو امید تھی کہ وہ اس بار بھی پوڈیم پر سرفہرست رہیں گے۔کھیلوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایتھلیٹکس کے میدان میں مقابلے کا معیار اب انتہائی بلند ہو چکا ہے جہاں ذرا سی غفلت یا فٹنس کی کمی بڑے کھلاڑیوں کو بھی باہر کر سکتی ہے۔ رومیش تھارنگا پاتھیراجا کی یہ فتح آنے والے مقابلوں کے لیے ایک نیا سنگ میل ثابت ہوگی۔ دوسری جانب، نیرج چوپڑا اور ارشد ندیم جیسے بڑے ناموں کے لیے یہ مقابلہ مستقبل کی حکمت عملی تیار کرنے کا ایک بہترین موقع فراہم کرتا ہے تاکہ وہ اپنی خامیوں پر قابو پا کر مزید مضبوطی کے ساتھ میدان میں واپس آ سکیں۔