Politics
ڈونلڈ ٹرمپ کی صیہونیت مخالف یہودی رہنماؤں سے اہم ملاقات
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی فوجی بھرتی کے خلاف جاری احتجاج کے دوران چھ صیہونیت مخالف یہودی ربیوں کے ساتھ ایک نجی ملاقات کی۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر اسرائیل کی پالیسیوں اور فوجی بھرتیوں کے معاملے پر شدید بحث جاری ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں چھ صیہونیت مخالف یہودی ربیوں کے ساتھ ایک نجی اور خفیہ ملاقات کی ہے، جو کہ موجودہ سیاسی منظر نامے میں انتہائی اہمیت کی حامل بتائی جا رہی ہے۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسرائیل میں فوجی بھرتی کے قانون اور اقدامات کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور معاشرے کے مختلف طبقات اس پالیسی پر سخت تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس ملاقات نے مختلف حلقوں میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کیونکہ روایتی طور پر امریکی سیاست میں اسرائیل نواز پالیسیوں کو غلبہ حاصل رہا ہے۔ ملاقات میں شریک صیہونیت مخالف یہودی رہنماؤں نے اپنی مذہبی اور سیاسی پوزیشن کے حوالے سے گفتگو کی اور صیہونیت کے نظریاتی خدوخال پر اپنے سخت مؤقف سے آگاہ کیا۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کی ملاقاتیں امریکی داخلی سیاست اور مشرق وسطیٰ کے امور پر اثر انداز ہو سکتی ہیں، بالخصوص جب امریکی صدارتی دوڑ اور خارجہ پالیسی کے مسائل پر پہلے ہی سے شدید کشمکش پائی جاتی ہے۔ اس تقریب یا ملاقات کے بعد سے مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں میں ردعمل کا سلسلہ جاری ہے، اور میڈیا کی جانب سے بھی اس خبر کو گہرائی کے ساتھ زیر بحث لایا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس ملاقات کے اثرات امریکی اور بین الاقوامی سطح پر کیا رنگ لاتے ہیں، یہ دیکھنا باقی ہے۔