LIVE
Loading Breaking News...

جیسن گلیسپی کا عاقب جاوید اور پاکستان کرکٹ کی سلیکشن پالیسی پر کڑا تنقیدی بیان

News Image
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ جیسن گلیسپی نے چیف سلیکٹر عاقب جاوید کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کے بجائے خود کا محاسبہ کریں۔ انہوں نے قومی ٹیم میں حالیہ برطرفیوں اور کھلاڑیوں کے ساتھ ہتک آمیز رویے پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ٹیسٹ کوچ جیسن گلیسپی نے چیف سلیکٹر عاقب جاوید پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں عقل کے ناخن لیتے ہوئے خود کو آئینے میں دیکھنا چاہیے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان ٹیم کو حالیہ میچوں میں شدید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے اور پی سی بی نے ٹیم مینجمنٹ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرتے ہوئے ہیڈ کوچ اور بولنگ کوچ کو تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ کئی کھلاڑیوں کو بھی وطن واپس بھیج دیا ہے۔ جیسن گلیسپی، جنہوں نے سال 2024ء کے دوران آٹھ ماہ تک پاکستانی ٹیم کی کوچنگ کی تھی، کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے کیونکہ اس سے کھلاڑیوں کا کیریئر اور روزگار دائو پر لگ جاتا ہے۔ انہوں نے سلیکشن کمیٹی بالخصوص عاقب جاوید کی پالیسیوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ٹیم بظاہر شدید خوف کی فضا میں کھیل رہی ہے اور سلیکشن کے معاملات میں روزانہ کی بنیاد پر فیصلے تبدیل کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے سلمان علی آغا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پہلے ٹیسٹ میں کپتانی کرنے والے کھلاڑی کو دوسرے ٹیسٹ سے باہر کر کے تیسرے سے پہلے ہی جہاز میں واپس بٹھا دینا کسی طور پر بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔ جیسن گلیسپی نے مزید انکشاف کیا کہ عاقب جاوید نے حالیہ ناکامیوں کا ملبہ ان پر اور سابق وائٹ بال کوچ گیری کرسٹن پر ڈالنے کی کوشش کی ہے، حالانکہ وہ دونوں اب اس ڈھانچے کا حصہ ہی نہیں ہیں اور عاقب جاوید خود پچھلے دو سال سے چیف سلیکٹر کے عہدے پر فائز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کو برطرفی کی اطلاعات میڈیا اور دوست احباب کے ذریعے ملیں جو کہ انتہائی غیر پیشہ ورانہ اور مایوس کن رویہ ہے۔ آسٹریلوی کوچ کے علاوہ شاہد آفریدی، شعیب ملک اور مکی آرتھر جیسے سابق نامور کھلاڑیوں اور کوچز نے بھی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یاد رہے کہ دورہ انگلینڈ کے دوران پاکستان کو پہلے ٹیسٹ میں اننگز اور 103 رنز جبکہ دوسرے ٹیسٹ میں 194 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد اب نیوزی لینڈ کے مائیک ہیسن اور آسٹریلیا کے ایشلے نوفکے باقی ماندہ دورے کے لیے ٹیم کی کمان سنبھال چکے ہیں۔