LIVE
Loading Breaking News...

نیپال سیلاب: ٹنل میں ایک ہفتے تک پھنسے دو مزدور معجزانہ طور پر زندہ بازیاب

News Image
نیپال میں ہائیڈرو پاور ٹنل سے تباہ کن سیلاب کے ایک ہفتے بعد دو مزدوروں کو زندہ نکال لیا گیا۔ ان مزدوروں کی بازیابی کو ملک میں ایک معجزہ قرار دیا جا رہا ہے جبکہ امدادی سرگرمیاں تاحال جاری ہیں۔
نیپال میں حکام نے تصدیق کی ہے کہ ملک میں آنے والے تباہ کن اور ہلاکت خیز سیلاب کے ایک ہفتے سے زائد عرصے کے بعد، امدادی ٹیموں نے سرنگ میں پھنسے ہوئے دو ہائیڈرو پاور مزدوروں کو زندہ نکال لیا ہے۔ جمعہ کے روز سامنے آنے والی اس کامیابی نے پورے ملک میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے اور اسے ایک معجزہ قرار دیا جا رہا ہے۔ توانائی اور داخلہ وزارت کے مطابق دونوں مزدوروں کو مٹی اور ملبے میں دبی ہوئی ایک سرنگ سے بحفاظت باہر نکالا گیا جس کی ویڈیو فوٹیجز بھی جاری کی گئی ہیں۔ بازیاب ہونے والے مزدوروں کی شناخت ۳۰ سالہ مکینیکل فورمین سنجے شاہ اور ۴۵ سالہ مکینیکل سپروائزر کبیر مہارجن کے طور پر کی گئی ہے۔ ریسکیو آپریشن کے دوران جب پہلے مزدور کو کیچڑ سے بھرے سوراخ سے باہر نکالا گیا تو وہاں موجود امدادی کارکنوں نے خوشی کے نعرے لگائے اور تالیاں بجائیں۔ ایک اور تصویر میں دوسرے مزدور کو کیچڑ میں لت پت دیکھا گیا جو ہاتھ جوڑ کر دعا کی حالت میں تھا جبکہ ریسکیو اہلکار اسے اسٹریچر پر لے جا رہے تھے۔ کثیر مہارجن کے بھائی عامر مہارجن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس خبر پر بے حد خوش ہیں اور ان کے دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ دونوں مزدور ان سیکڑوں افراد میں شامل تھے جو ۲۶ اگست کو اس وقت لاپتہ ہو گئے تھے جب علاقے میں کیچڑ اور ملبے کا ایک بڑا طوفان آیا تھا۔ توانائی کے وزیر اور دیگر اعلیٰ حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ترشولی تھری اے سرنگ سے پہلے ایک اور پھر دوسرے شخص کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کو پہلے ہی یہ امید تھی کہ متعدد سرنگوں کے اندر سو سے زائد مزدور زندہ ہو سکتے ہیں، اسی لیے وہاں مسلسل تلاش اور بچاؤ کا کام جاری رکھا گیا۔ بین الاقوامی سرنگ اور زیر زمین خلائی ایسوسی ایشن کے ماہرین اور مقامی ٹیمیں دن رات اس مشن پر کام کر رہی تھیں۔ سرنگ میں پچاس سے ساٹھ میٹر تک کا ملبہ ہٹانے کے بعد امدادی ٹیموں کو اندر سے آوازیں موصول ہوئیں جس کے بعد یہ بڑی کامیابی حاصل ہوئی۔ نیپال میں سیلاب کے بعد اب تک ایک ہزار دو سو سے زائد لاشیں برآمد ہو چکی ہیں جبکہ ہزاروں افراد تاحال لاپتہ ہیں، تاہم ان دو مزدوروں کی بحفاظت واپسی نے ایک نئی امید پیدا کر دی ہے۔