World
امریکہ میں بچوں کی ملک بدری کا خطرہ، قانونی امداد کا معاہدہ ختم
قانونی نمائندگی کا معاہدہ ختم ہونے کے باعث ہزاروں کم عمر بچوں کو ملک بدری کے شدید خطرات کا سامنا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکہ میں انسانی حقوق کے اداروں اور تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ قانونی نمائندگی کا ایک اہم معاہدہ ختم ہونے کے قریب ہے جس کے نتیجے میں کم از کم چوبیس ہزار بچوں کو شدید قانونی خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس معاہدے کی مدت پوری ہونے کے بعد ان کم عمر اور بے سہارا بچوں کو عدالتوں میں قانونی مدد فراہم کرنے والا کوئی نہیں ہوگا، جس سے ان کی ملک بدری یا اخراج کے خطرات کئی گنا بڑھ جائیں گے۔ ماہرین قانون کے مطابق، ایسے بچے جو اکیلے امریکہ آئے ہیں یا تارکین وطن کے خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے لیے عدالت میں اپنا دفاع کرنا قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ قانونی وکیل کے بغیر یہ بچے اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ سے محروم رہ جائیں گے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے امریکی حکومت اور متعلقہ اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس معاہدے میں فوری طور پر توسیع کی جائے یا کوئی متبادل بندوبست کیا جائے تاکہ ان معصوم بچوں کو جبری ملک بدری جیسے المناک انجام سے بچایا جا سکے۔ دوسری طرف، اس معاملے پر سیاسی حلقوں میں بھی بحث شروع ہو چکی ہے اور تارکین وطن کے حقوق کے حامی قانون ساز اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ بچوں کے حقوق اور تحفظ کو ہر صورت ترجیح دی جانی چاہیے۔ اگر اس مسئلے کا فوری حل نہ نکالا گیا تو آنے والے دنوں میں ہزاروں بچوں کو قانونی نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے سنگین انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔