Politics
مکہ پیکٹ اور نئی جیو میٹری آف پاور: لاہور میں اہم سیمینار کا انعقاد
لاہور میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے پاکستان کی دفاعی کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے لیے معاشی اصلاحات پر زور دیا۔ مقررین نے مکہ پیکٹ کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کا اہم ذریعہ قرار دیا۔
لاہور یونیورسٹی میں 'مکہ پیکٹ اور نئی جیو میٹری آف پاور' کے عنوان سے منعقدہ ایک اہم سیمینار کے دوران وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال اور پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک محمد احمد خان نے مکہ پیکٹ کو ایک انتہائی اہم تزویراتی پیش رفت قرار دیا ہے۔ وزیر منصوبہ بندی نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو اپنی دفاعی اور سفارتی کامیابیوں کو طویل مدتی بنیادوں پر برقرار رکھنے کے لیے فوری طور پر معاشی ری سیٹ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ معاشی طاقت کے بغیر دفاعی اور سفارتی کامیابیاں وقت کے ساتھ ساتھ اپنی تاثیر کھو دیتی ہیں، لہٰذا ملک کو اب مکمل توجہ اپنی داخلی معیشت کو سنوارنے پر مرکوز کرنا ہوگی۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک محمد احمد خان نے امید ظاہر کی کہ یہ نیا معاہدہ خطے میں طاقت کے توازن کے ذریعے امن کے فروغ کے لیے ایک بہترین آلہ کار ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان اتحاد اور طاقت کا ایک واضح اور مضبوط پیغام دیتا ہے۔ اس موقع پر سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مکہ پیکٹ محض ایک معاہدہ نہیں بلکہ یہ قاہرہ، جدہ، لاہور، کراچی، انقرہ اور استنبول سمیت پوری مسلم دنیا کے عوام کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے اسے تینوں برادر ملکوں کی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کا ایک مؤثر ضامن قرار دیا۔
سیمینار کے دوران سابق قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجہ نے کہا کہ عالمی طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے اور امریکہ کے نسبتی زوال کے ساتھ ساتھ روس، چین اور مسلم دنیا کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے، جس کے لیے علاقائی اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سابق سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یہ پیکٹ پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی ہے جسے مشرق وسطیٰ کے بدلتے ہوئے اسٹریٹجک ماحول کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ یونیورسٹی آف لاہور کے چیئرمین اویس رؤف نے کہا کہ بین الاقوامی نظام کے زوال کے دور میں اس پیکٹ کا سامنے آنا خطے کے لیے انتہائی خوش آئند ہے اور اس معاہدے کی دفاعی نوعیت سے ایک نئے علاقائی سلامتی کے ڈھانچے کی بنیاد پڑ سکتی ہے۔
تقریب میں ملک کی نامور شخصیات، ریٹائرڈ عسکری حکام، ماہرینِ قانون اور سیاستدانوں نے بھی شرکت کی اور مختلف سیشنز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مقررین کا متفقہ مؤقف تھا کہ بدلتی ہوئی دنیا میں زندہ رہنے اور آگے بڑھنے کے لیے نئی حقیقتوں کے مطابق خود کو ڈھالنا لازمی ہو چکا ہے۔ سیمینار میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ جامعات کو اس طرح کے اہم قومی و بین الاقوامی امور پر کھلی بحث اور فکری مکالمے کے لیے سازگار پلیٹ فارم فراہم کرتے رہنا چاہیے تاکہ پالیسی سازوں کو درست سمت کا تعین کرنے میں مدد مل سکے۔