World
امریکہ اور یورپی یونین کی ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں تیز
امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی اقتصادی تنہائی کی مہم میں یورپی یونین بھی شامل ہو گئی ہے۔ اس دوران جنوبی کوریا صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے اور ممکنہ فوجی حمایت پر غور کر رہا ہے۔
امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی خصوصی مہم 'اکنامک آؤٹ کاسٹ' کو اس وقت مزید تقویت ملی جب یورپی یونین نے بھی اس میں باضابطہ طور پر شمولیت اختیار کر لی ہے۔ امریکی وزیر خزانہ کے مطابق اس مہم کا مقصد ایران کو مالیاتی طور پر مکمل طور پر تنہا کرنا اور اس کی معیشت کو مزید دباؤ میں لانا ہے۔ اس پیشرفت کے بعد عالمی سطح پر ایران اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔دوسਰੀ جانب ایشیائی خطے سے بھی اس مہم کے حوالے سے اہم خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق جنوبی کوریا اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے اور امریکہ کی قیادت میں چلنے والی اس مہم کے تحت ممکنہ فوجی حمایت کے آپشنز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ جنوبی کوریا کا یہ اقدام اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اس تنازع کے اثرات اب محض معاشی میدان تک محدود نہیں رہے بلکہ سکیورٹی کے امور بھی اس کی زد میں آ سکتے ہیں۔دریں اثنا، مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال اور جاری کشیدگی کے تناظر میں بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس بھی سامنے آ رہی ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں ہونے والے مختلف واقعات اور عسکری کارروائیوں کی تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑے تنازع سے بچا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر یورپی یونین اور دیگر اتحادی ممالک اس مہم میں امریکہ کا ساتھ سختی سے جاری رکھتے ہیں تو تہران کے لیے اقتصادی مشکلات میں مزید شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔