Business
پاکستان میں الیکٹرک بائیکس اور انفراسٹرکچر کے مسائل
پاکستان میں دو پہیوں والی الیکٹرک گاڑیوں اور بائیکس کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے مقامی سطح پر بنیادی ڈھانچے کی تیاری پر توجہ دی جا رہی ہے۔ اس ضمن میں متعلقہ حکام نے ٹیکسوں کے نظام اور بیٹری ٹیسٹنگ کی سہولیات کی کمی پر نوٹس لے لیا ہے۔
پاکستان میں ٹرانسپورٹ کے شعبے کو ماحول دوست بنانے اور ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو کم کرنے کے لیے الیکٹرک گاڑیوں بالخصوص دو پہیوں والی بائیکس کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ تاہم اس ابھرتی ہوئی صنعت کو متعدد انتظامی اور تکنیکی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں مقامی سطح پر چارجنگ انفراسٹرکچر کی کمی سرفہرست ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ملک میں برقی بائیکس کے فروغ کے لیے ایک مضبوط اور قابل رسائی نیٹ ورک کی اشد ضرورت ہے تاکہ صارفین کو سفر کے دوران چارجنگ میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔
حالیہ دنوں میں قومی اسمبلی اور دیگر متعلقہ اداروں نے الیکٹرک گاڑیوں کے مقامی انفراسٹرکچر پر عائد ٹیکسوں کا نوٹس بھی لیا ہے۔ صنعت سے وابستہ کاروباری شخصیات کا کہنا ہے کہ درآمدی اور مقامی پرزہ جات پر بھاری ٹیکس اس شعبے کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اگر حکومت ان ٹیکسوں میں کمی کرے اور سرمایہ کاروں کو آسان شرائط پر قرضے یا مراعات فراہم کرے تو نہ صرف مقامی صنعت کو جلا ملے گی بلکہ عام آدمی کے لیے بھی سستی سواری کی دستیابی یقینی ہو سکے گی جو ملکی معیشت کے لیے بھی سودمند ہے۔
دوسری جانب پاکستان کو الیکٹرک بائیکس کے لیے بیٹری ٹیسٹنگ کی جدید اور معیاری سہولیات کی شدید کمی کا بھی سامنا ہے۔ بیٹری کسی بھی الیکٹرک گاڑی کا سب سے اہم اور قیمتی حصہ ہوتی ہے، اور مناسب ٹیسٹنگ لیبارٹریز نہ ہونے کی وجہ سے مصنوعات کے معیار کو جانچنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ متعلقہ حلقوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حکومت اور نجی شعبے کو مل کر بیٹری ٹیسٹنگ لیبارٹریز کا قیام عمل میں لانا چاہیے تاکہ مارکیٹ میں صرف اعلیٰ معیار کی اور محفوظ گاڑیاں ہی فروخت کے لیے پیش کی جائیں۔
آخر کار، اگر پاکستان کو گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی آلودگی کے بحران سے نمٹنا ہے تو الیکٹرک بائیکس کے شعبے کو درپیش ان تمام مسائل کا فوری حل تلاش کرنا ہوگا۔ اس ضمن میں پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ صنعت کاروں کے ساتھ مشاورت کر کے ایک جامع حکمت عملی تیار کریں جس میں سستے چارجنگ اسٹیشنز کا قیام، ٹیکسوں میں نرمی اور جدید ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ مراکز کا قیام شامل ہو۔ اس سے نہ صرف پبلک ٹرانسپورٹ کا قبلہ درست ہوگا بلکہ ملک تیل کی درآمدی بل سے بھی نجات حاصل کر سکے گا۔