AI
اولی کا اے آئی اسسٹنٹ میں پرائیویسی پر بڑا داؤ
آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے شعبے میں جاری سخت مسابقت کے دوران نئی کمپنی اولی نے اپنی توجہ رازداری یعنی پرائیویسی پر مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی کا ماننا ہے کہ محفوظ اور نجی ماحول فراہم کرکے ہی اس ریس میں نمایاں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کی دنیا میں اس وقت دنیا بھر کی بڑی اور چھوٹی کمپنیاں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی دوڑ میں مصروف ہیں۔ اسی تناظر میں ایک نئے کھلاڑی 'اولی' (Ollie) نے میدان میں قدم رکھا ہے اور اس کا بنیادی ہدف صارفین کی پرائیویسی یا رازداری کو بنانا ہے۔ کمپنی کا ماننا ہے کہ آج کے دور میں جب صارفین اپنے ذاتی ڈیٹا اور معلومات کے تحفظ کو لے کر سب سے زیادہ فکر مند ہیں، پرائیویسی پر فوکس کرنا ہی مارکیٹ میں کامیابی کی اصل کنجی ثابت ہو سکتا ہے۔ موجودہ اے آئی اسسٹنٹس کی بھرمار میں بہت سی کمپنیاں ڈیٹا جمع کرنے کے طریقوں کی وجہ سے تنقید کی زد میں رہتی ہیں۔ اولی اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ صارفین کو ایک ایسا سمارٹ اسسٹنٹ فراہم کیا جا سکے جو ان کی ذاتی معلومات کو خفیہ رکھے اور کسی بھی قسم کی کمرشل غرض کے لیے ان کے ڈیٹا کا غلط استعمال نہ ہو۔ تکنیکی حلقوں میں اس حکمت عملی کو کافی سراہا جا رہا ہے کیونکہ دنیا بھر میں پرائیویسی کے قوانین سخت سے سخت تر ہوتے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اولی صارفین کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ ٹیکنالوجی کی مارکیٹ میں ایک بڑا انقلاب لا سکتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب لوگ اپنی ڈیجیٹل سیکیورٹی کے بارے میں انتہائی حساس ہو چکے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا اولی کی یہ پرائیویسی سینٹرک اپروچ روایتی اور بڑی ٹیک کمپنیوں کے غلبے کو چیلنج کرنے میں کتنی کامیاب رہتی ہے۔