LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ اور ایران تنازع کا انجام: ماہرین کی تجزیاتی آراء

News Image
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور حملوں کے بعد سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس تنازع کا ممکنہ انجام کیا ہو سکتا ہے۔ اس رپورٹ میں بین الاقوامی تعلقات کے تین ماہرین نے اس بحران سے نکلنے کے ممکنہ راستوں اور حکمت عملیوں پر روشنی ڈالی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ ہفتوں میں ہونے والے نئے حملوں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی نے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ سوال شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ آیا اس دیرینہ تنازع کا کوئی پائیدار حل موجود ہے یا دونوں فریقین کے پاس اس بحران سے باہر نکلنے کی کوئی واضح حکمت عملی یعنی ایگزٹ اسٹریٹجی موجود ہے یا نہیں۔ اس اہم ترین موضوع پر بین الاقوامی تعلقات اور خطے کے امور کے ماہرین نے اپنے تجزیات پیش کیے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنا خطے کے امن کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔ پہلے ماہر کا کہنا ہے کہ فریقین کو فوری طور پر عسکری کارروائیوں میں کمی لانا ہوگی تاکہ مزید تباہی کو روکا جا سکے۔ ان کے مطابق، کسی بھی بڑی جنگ کے آغاز سے پہلے سفارتی چینلز کو فعال کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ غلط فہمیوں کی بنیاد پر ہونے والے نقصان سے بچا جا سکے۔ اگر امریکہ اور ایران دونوں اس بات کو سمجھ لیں کہ عسکری برتری کا کوئی حتمی فیصلہ کن نتیجہ نہیں نکل سکتا، تو وہ مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، خطے کے دیگر ممالک کو بھی ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے آگے آنا چاہیے تاکہ دونوں متحارب فریقین کے درمیان اعتماد کی فضا بحال کی جا سکے۔ دوسرے ماہر کا خیال ہے کہ اس بحران کا خاتمہ صرف اس وقت ممکن ہے جب اقتصادی پابندیوں اور سکیورٹی خدامات پر بیک وقت بات چیت کی جائے۔ ایران پر عائد معاشی دباؤ اور امریکہ کے خطے میں سکیورٹی خدشات دونوں ایسے پہلو ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں ممالک کو ایک ایسے معاہدے کی ضرورت ہے جو دونوں فریقین کے لیے قابل قبول ہو اور وہ اپنے اپنے سیاسی دائرہ کار میں اسے فتح کے طور پر پیش کر سکیں۔ تاہم، اس کے لیے انتہائی لچکدار سفارت کاری اور اعلیٰ سطح کے رابطوں کی ضرورت ہوگی جو فی الحال محدود دکھائی دیتے ہیں۔ تیسرے ماہر کا تجزیہ اس بات پر مرکوز ہے کہ اگر فوری طور پر کوئی سیاسی حل نہ نکالا گیا تو یہ تنازع پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ ان کا مشورہ ہے کہ بین الاقوامی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ اور یورپی یونین کو اس معاملے میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ موجودہ حالات میں جب دونوں اطراف سے سخت بیانات کا سلسلہ جاری ہے، کسی تیسرے فریق کی ضمانت کے بغیر براہ راست بات چیت کا آغاز کرنا انتہائی مشکل امر بن چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا دونوں ممالک عسکری راستے کو چھوڑ کر سفارت کاری کا انتخاب کرتے ہیں یا نہیں، کیونکہ یہی فیصلہ خطے کے مستقبل کا تعین کرے گا۔