LIVE
Loading Breaking News...

یو ایس اوپن میں انفلونسرز کی آمد اور ٹینس کے آداب پر بحث

News Image
امریکہ میں جاری ٹینس کے بڑے ٹورنامنٹ یو ایس اوپن میں سوشل میڈیا انفلونسرز کی بڑی تعداد میں شرکت اور دورانِ میچ ان کے رویے پر سنجیدہ بحث شروع ہو گئی ہے۔ منتظمین کی جانب سے بلائے گئے ان تخلیق کاروں پر میچز کے دوران خلل ڈالنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔
امریکہ کے معروف ٹینس ٹورنامنٹ یو ایس اوپن میں اس سال سوشل میڈیا انفلونسرز اور مواد تخلیق کاروں کی موجودگی ایک بڑا موضوعِ بحث بن گئی ہے۔ منتظمین کی جانب سے تقریباً ایک سو انفلونسرز کو اس باوقار ایونٹ میں خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا تاکہ نوجوان نسل کو اس کھیل کی طرف راغب کیا جا سکے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ٹورنامنٹ کی پذیرائی میں اضافہ ہو۔ تاہم، ان کی آمد کے ساتھ ہی میچز کے دوران روایتی کھیلوں کے آداب کی پامالی کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ میچز کے دوران غیر ضروری شور، کھلاڑیوں کی توجہ بھٹکانے والی حرکات اور نشستوں پر بے قاعدگی نے شائقین اور مبصرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ رواں برس کے ٹورنامنٹ کے دوران کئی ایسے ناخوشگوار واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جہاں انفلونسرز کی وجہ سے میچز کی روانی متاثر ہوئی۔ ٹینس ایک ایسا کھیل ہے جس میں کھلاڑیوں کو انتہائی گہرے ارتکاز اور تماشائیوں سے مکمل خاموشی یا مخصوص اخلاقی ضابطوں کی توقع ہوتی ہے۔ روایتی شائقین کا ماننا ہے کہ سوشل میڈیا کے یہ ستارے کھیل کے بنیادی اصولوں سے ناواقف ہیں اور وہ صرف اپنی ویڈیوز اور فالوورز بڑھانے کے لیے اسٹیڈیم کا رخ کر رہے ہیں، جو کہ کھیل کی روح کے سراسر منافی ہے۔ اس صورتحال نے اسپورٹس مارکیٹنگ اور روایتی کھیلوں کے شائقین کے درمیان ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ایک طرف جہاں ایونٹ کی انتظامیہ ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق مارکیٹنگ کے نئے طریقے تلاش کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف کھیلوں کے خالص حامی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کھیل کے تقدس اور روایتی آداب پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے۔ اب یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا مستقبل کے بڑے ٹورنامنٹس میں شمولیت کے لیے انفلونسرز کو کوئی تربیتی ضابطہ یا اخلاقی حدود فراہم کی جانی چاہئیں تاکہ کھیل کا اصل ماحول برقرار رہ سکے۔