LIVE
Loading Breaking News...

ریفارم یو کے میں نیا فنڈنگ اسکینڈل، اہم عہدیدار مستعفی

News Image
برطانوی سیاسی جماعت ریفارم یو کے کو ایک نئے فنڈنگ اسکینڈل کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں کئی اہم عہدیداروں نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ استعفیٰ ایک ایسی دستاویزی فلم کے منظر عام پر آنے کے بعد آئے ہیں جن میں الزام لگایا گیا ہے کہ پارٹی نے پولنگ کے اخراجات کے لیے بیرون ملک مقیم کمپنی سے فنڈنگ کا انتظام کیا۔
برطانیہ کی دائیں بازو کی سیاسی جماعت ریفارم یو کے ایک بار پھر شدید بحران کا شکار ہو گئی ہے جب پارٹی کے اندرونی حلقوں سے اہم عہدیداروں کے مستعفی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یہ تازہ ترین بحران ایک ایسی تحقیقاتی دستاویزی فلم کے نشر ہونے کے بعد پیدا ہوا ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ پارٹی کی جانب سے انتخابی پولنگ کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے مبینہ طور پر ایک بیرون ملک مقیم کمپنی سے غیر قانونی طور پر فنڈز حاصل کیے گئے تھے۔ اس انکشاف نے برطانوی سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی توجہ بھی اس جانب مبذول ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، دستاویزی فلم میں سامنے آنے والے حقائق کے بعد پارٹی قیادت پر شدید دباؤ بڑھ گیا تھا، جس کے نتیجے میں کچھ عہدیداروں نے اپنی پوزیشن کو بچانے اور پارٹی کے مؤقف سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر اپنے استعفے پیش کر دیے۔ پارٹی پر الزام ہے کہ اس نے انتخابی قوانین کی مبینہ خلاف ورزی کرتے ہوئے بیرون ملک سے مالی اعانت حاصل کی، جو کہ برطانوی انتخابی کمیشن کے ضوابط کے خلاف ہے۔ ریفارم یو کے کے مخالفین نے اس معاملے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور تمام تر صورتحال کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ سچی کہانی عوام کے سامنے آ سکے۔ دوسری جانب، ریفارم یو کے کی قیادت نے ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں سیاسی سازش قرار دیا ہے۔ پارٹی ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ تمام الزامات ان کی بڑھتی ہوئی سیاسی مقبولیت کو نقصان پہنچانے کے لیے ایک سوچی سمجھی چال ہیں اور اس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ تاہم، مبصرین کا خیال ہے کہ اس اسکینڈل اور حالیہ استعفوں کی وجہ سے پارٹی کی ساکھ کو شدید دھچکا لگا ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب ملک میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر برطانوی الیکشن کمیشن کی جانب سے مزید تحقیقات اور کارروائی متوقع ہے، جس سے پارٹی کی مستقبل کی سیاسی حکمت عملی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔