LIVE
Loading Breaking News...

ارجنٹائن کے صدر کا فاک لینڈز پر سخت مؤقف اور پابندیوں کا اعلان

News Image
ارجنٹائن کے صدر خاویر میلئی نے لاس مالویناس یعنی فاک لینڈ جزائر کے معاملے پر اپنا سیاسی فوکس تبدیل کرتے ہوئے نئے عزائم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ارجنٹائن اس خطے پر اپنا دعویٰ نہیں چھوڑے گا اور پابندیوں کی دھمکیاں دی ہیں۔
ارجنٹائن کے صدر خاویر میلئی نے فاک لینڈ جزائر، جنہیں لاطینی امریکہ میں لاس مالویناس کہا جاتا ہے، کے تنازع پر ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے نئی پابندیوں کی دھمکی دی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر میلئی کا یہ نیا اقدام دراصل امریکہ کے بدلتے ہوئے سیاسی اور سفارتی رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایا گیا ہے تاکہ اس دیرینہ تنازع پر بین الاقوامی سطح پر ارجنٹائن کے مؤقف کو دوبارہ تقویت دی جا سکے۔ حالیہ بیانات میں صدر میلئی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کی حکومت فاک لینڈ جزائر پر ارجنٹائن کی خودمختاری کے حصول کے لیے ہر ممکن سفارتی اور معاشی دباؤ استعمال کرے گی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات محض سیاسی چالیں بھی ہوسکتی ہیں جن کا مقصد ملکی سطح پر عوامی توجہ کو موجودہ معاشی بحران سے ہٹا کر قوم پرستانہ جذبات کی طرف مبذول کرانا ہے۔ تاہم، حکومت کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ پالیسی ملک کے قومی مفادات کے عین مطابق ہے۔ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں اس پیش رفت کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ صدر میلئی کی کوشش ہے کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے برطانوی کنٹرول والے ان جزائر کے معاملے پر امریکہ کی حمایت حاصل کریں یا کم از کم اسے ارجنٹائن کے حق میں غیر جانبدار بنائیں۔ دوسری طرف، برطانیہ نے اس خطے پر اپنے روایتی مؤقف کو برقرار رکھتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جزائر کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے رہائشیوں کی مرضی کے مطابق ہی ہوگا۔ اس صورتحال نے خطے میں ایک بار پھر سفارتی ہلچل پیدا کر دی ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس تنازع کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ صدر میلئی کی یہ حکمت عملی جہاں ایک طرف ملکی سیاست میں ان کے قد کو بلند کر سکتی ہے، وہیں دوسری طرف برطانیہ کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ واشنگٹن اس معاملے پر کیا ردعمل ظاہر کرتا ہے اور ارجنٹائن کی یہ نئی سفارتی مہم کتنی سودمند ثابت ہوتی ہے۔