Technology
اسرائیلی جنگ اور مصنوعی ذہانت: فلسطین کے تنازعات میں نئی ٹیکنالوجی کا استعمال
ہانوور افشاں سے انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیل نے فلسطینیوں کے بارے میں بین الاقوامی بیانیے کو کنٹرول کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ یہ قدم اسرائیل کی طویل مدتی کوششوں کا نیا محاذ ہے جو ٹیکنالوجی کے ذریعے زمینی حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اسرائیل نے فلسطین کے خلاف اپنی جنگ کو ایک بالکل نئے اور خطرناک دور میں داخل کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت یعنی AI کا بھرپور استعمال شروع کر دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے ہانوور افشاں (Hanover affair) کے انکشافات نے دنیا کے سامنے اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ کس طرح جدید ٹیکنالوجی کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام اسرائیل کی اس طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے ذریعے وہ دنیا بھر میں فلسطینیوں کے بارے میں پائے جانے والے فہم، بیانیے اور تاثر کو اپنے حق میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ نیا محاذ روایتی جنگ سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس کا مقصد انسانی ذہنوں اور عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے معلومات کی ترسیل کو اس طرح سے کنٹرول اور مانیٹر کیا جا رہا ہے کہ اصل حقائق پس منظر میں چلے جائیں اور ایک مخصوص بیانیہ پوری دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور ڈیجیٹل رائٹس کے ماہرین نے اس پیش رفت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا اس طرح کا استعمال بنیادی انسانی حقوق اور آزادانہ اظہار رائے کے منافی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور ٹیکنالوجی کے اس غیر اخلاقی استعمال کو روکا جائے۔ دوسری جانب، اس تنازع نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ آنے والے وقتوں میں جنگیں صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، الگورتھمز اور مصنوعی ذہانت پر غلبہ حاصل کرنے کی جنگیں زیادہ اہم ہوتی چلی جائیں گی۔