Pakistan
پاکستان کا نیا فوجی کمانڈ ڈھانچہ اور قانون سازی
پاکستان نے پانچ دہائیوں کے بعد اپنی فوجی کمانڈ کے ڈھانچے میں ایک اہم قانون سازی کے ذریعے بڑی تبدیلیاں کی ہیں۔ اس نئی قانون سازی سے فوج کے سربراہ کو وسیع اختیارات حاصل ہو گئے ہیں جس پر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
پاکستان میں تقریبا پانچ دہائیوں کے طویل عرصے کے بعد عسکری اور دفاعی ڈھانچے میں ایک انتہائی اہم اور بڑی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے۔ حال ہی میں منظور کی جانے والی نئی قانون سازی کے تحت پاکستان کے فوجی سربراہ کو انتہائی وسیع اور جامع کمانڈ کے اختیارات تفویض کیے گئے ہیں۔ اس اقدام کو ملکی دفاعی تاریخ کا ایک بڑا موڑ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس پر مختلف حلقوں کی جانب سے کڑی نگرانی اور پارلیمانی یا سول بالادستی کے حوالے سے سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ تبدیلیاں خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال اور دفاعی تقاضوں کے پیش نظر کی گئی ہیں تاکہ فیصلہ سازی کے عمل کو مزید مربوط اور مؤثر بنایا جا سکے۔ ماضی میں اس طرح کے بڑے ڈھانچہ جاتی فیصلے طویل وقفوں کے بعد کیے جاتے رہے ہیں، جو ملکی سیاسی اور عسکری توازن پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ دوسری جانب، دفاعی تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس نئی قانون سازی سے فوج کے اندرونی نظم و نسق اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو تو مضبوطی ملے گی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بحث بھی شدت اختیار کر گئی ہے کہ اس عمل میں سول اداروں کی نگرانی کا دائرہ کار کیا ہوگا۔ ناقدین اور حزب اختلاف کے بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اس قسم کے وسیع اختیارات کی منتقلی سے ریاستی اداروں کے مابین طاقت کا توازن متاثر ہو سکتا ہے۔ اس تمام صورتحال کے باوجود حکومت اور دفاعی ترجمانوں کا موقف ہے کہ یہ فیصلے ملکی سالمیت، قومی سلامتی اور سکیورٹی کے امور کو بغیر کسی تاخیر کے نمٹانے کے لیے ناگزیر تھے۔ اس قانون سازی کے اثرات آنے والے دنوں میں پاکستان کی داخلی سیاست اور دفاعی پالیسیوں پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں، اس کا اندازہ وقت کے ساتھ ہی ہو سکے گا، تاہم فی الحال یہ موضوع ملک بھر میں بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔