Pakistan
پمز اسپتال آتشزدگی انکوائری رپورٹ مکمل، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا امکان
اسلام آباد کے پمز اسپتال میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں اور پولیس نے حتمی رپورٹ آئی جی اسلام آباد کو بھجوا دی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے اور فرائض میں غفلت برتنے والوں کو کسی صورت معاف نہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
اسلام آباد کے پمز اسپتال میں پیش آنے والے افسوسناک آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق واقعے کی تمام تر پہلوؤں سے تفتیش مکمل کرنے کے بعد حتمی رپورٹ آئی جی اسلام آباد کو ارسال کر دی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں واقعے کے اسباب، حفاظتی انتظامات میں کوتاہیوں اور متعلقہ عملے کی ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ رپورٹ کی روشنی میں آئندہ چند روز میں مزید اہم اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
اس واقعے کے بعد وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سخت برہمی کا اظہار کیا تھا اور واضح طور پر کہا تھا کہ ہسپتال انتظامیہ یا متعلقہ حکام میں سے جو بھی شخص اپنے فرائض کی انجام دہی میں غفلت کا مرتکب پایا گیا، اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ وزیراعظم کا موقف ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی زندگیوں سے کھیلنا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور غفلت برتنے والے کسی بھی افسر کو رعایت نہیں دی جائے گی۔
دوسری جانب اس واقعے کے دوران ایک ننھی جان کو بچانے والی نرس رضیہ نورین کی بہادری کو بھی سراہا گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے این آئی سی یو (NICU) میں پیش آنے والے اس سانحے کے دوران اپنی جان پر کھیل کر ایک بچے کی زندگی بچانے پر نرس رضیہ نورین کو ایک کروڑ روپے کا انعام دیا ہے۔ یہ اقدام اس بات کا عکاس ہے کہ حکومت جہاں غفلت برتنے والوں کا احتساب کر رہی ہے، وہیں اپنے فرائض کو ایمانداری سے سرانجام دینے والوں کی حوصلہ افزائی بھی کر رہی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پمز اسپتال اور دیگر سرکاری ہسپتالوں میں حفاظتی اصلاحات لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پمز جیسے بڑے ہسپتال میں آتشزدگی کے حفاظتی نظام کا ناقص ہونا انتظامیہ کی ایک بڑی ناکامی ہے۔ اب قوم کی نظریں پولیس کی اس رپورٹ پر مرکوز ہیں کہ آیا اس میں کن اعلیٰ حکام کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے اور مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔