Pakistan
ایم ایل-ون منصوبہ: وزیر اعظم شہباز شریف کی ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ اہم مشاورت
وزیر اعظم شہباز شریف نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے وفد کے ساتھ ملاقات میں ایم ایل-ون منصوبے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اس پر کام جلد شروع کرنے پر زور دیا ہے۔ ملاقات کے دوران ٹیکس نظام کی اصلاحات اور نجی شعبے کے کردار کو بڑھانے کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے اعلیٰ سطح کے وفد سے ملاقات کے دوران پاکستان کے اہم ترین ریلوے انفراسٹرکچر منصوبے 'ایم ایل-ون' (ML-1) کی اہمیت کو اجاگر کیا اور اس منصوبے پر کام جلد از جلد شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت ملک بھر میں نقل و حمل کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پرعزم ہے، اور ایم ایل-ون منصوبہ اس سلسلے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے وفد کو یقین دلایا کہ حکومت اس منصوبے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے گی تاکہ کراچی سے روہڑی تک کے اس اہم ٹریک پر کام کا آغاز اسی مالی سال کے دوران کیا جا سکے۔ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون کو سراہتے ہوئے پاکستان کے ٹیکس نظام میں ڈیجیٹلائزیشن اور اصلاحات لانے کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے ٹیکس جمع کرنے کے نظام کو شفاف اور جدید بنانا چاہتا ہے تاکہ ملکی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔ وزیر اعظم نے نشاندہی کی کہ ٹیکس کے دائرہ کار کو بڑھانے اور اسے ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کے لیے اے ڈی بی کی تکنیکی معاونت انتہائی سودمند ثابت ہوگی۔ اس موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی وفد کو نجی شعبے کے کردار اور نجکاری کے عمل میں حکومت کی ترجیحات سے آگاہ کیا۔وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ حکومت نجی سرمایہ کاری کو متحرک کرنے اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے، تاکہ سرکاری اداروں کے بوجھ کو کم کر کے نجی شعبے کی صلاحیتوں کو کام میں لایا جا سکے۔ اے ڈی بی کے وفد نے بھی پاکستان میں معاشی استحکام کے لیے جاری حکومتی اقدامات کی تعریف کی اور یقین دلایا کہ بینک پاکستان میں انفراسٹرکچر اور ٹیکس اصلاحات کے منصوبوں میں مکمل تعاون جاری رکھے گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایم ایل-ون کا منصوبہ نہ صرف پاکستان کے ریلوے نیٹ ورک کو عالمی معیار کا بنائے گا بلکہ تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور مسافروں کو سفری سہولیات فراہم کرنے میں بھی ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ حکومت اب اس پروجیکٹ کی بروقت تکمیل کے لیے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ ملک میں معاشی ترقی کی رفتار کو تیز کیا جا سکے۔