World
یمن میں حوثی حملوں میں تیزی، انسانی بحران سنگین
یمن کے شہر تعز میں حوثی باغیوں کے حالیہ حملوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے جس کے باعث عام شہریوں کی نقل مکانی کی نئی لہر شروع ہو گئی ہے۔ مغربی محاذ پر جاری شدید جھڑپوں کے نتیجے میں اب تک درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔
یمن کے مرکزی اور اہم ترین شہر تعز میں حوثی باغیوں کے حملوں میں حالیہ دنوں کے دوران تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مقامی ذرائع اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، حوثیوں کی جانب سے کی جانے والی گولہ باری اور زمینی پیش قدمی نے شہر کے رہائشی علاقوں کو براہ راست متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کی ایک بڑی تعداد نقل مکانی پر مجبور ہو گئی ہے۔ یہ صورتحال ملک کے مغربی محاذ پر گزشتہ کئی برسوں کی شدید ترین کشیدگی کو ظاہر کرتی ہے، جہاں حکومتی فورسز اور حوثی جنگجوؤں کے مابین سخت لڑائی جاری ہے۔
اس کشیدگی کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔ فوجی ذرائع کے مطابق، مختلف جھڑپوں میں اب تک 80 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں حکومتی فورسز کے 13 اہلکار بھی شامل ہیں۔ یہ لڑائی اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب حوثی جنگجوؤں نے بحیرہ احمر کے قریب واقع اہم تجارتی گزرگاہوں اور اسٹریٹجک مقامات کی جانب پیش قدمی شروع کی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تعز پر حوثیوں کا دباؤ دراصل یمن کے دیگر علاقوں تک اپنی گرفت مضبوط کرنے کی ایک کوشش ہے، جس نے پورے خطے کے استحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
امدادی تنظیموں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ نقل مکانی کرنے والے افراد کو بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ تعز کا محاصرہ اور وہاں جاری مسلسل فائرنگ نے پہلے سے ہی تباہ حال انفراسٹرکچر کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔ طبی مراکز پر مریضوں کا دباؤ بڑھ رہا ہے، جبکہ خوراک اور ادویات کی سپلائی لائنیں بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ حکومتی فورسز نے اپنی پوزیشنوں کا دفاع کرنے کے لیے بھرپور جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے، تاہم اس جنگی ماحول میں سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے جو گزشتہ کئی سالوں سے جاری اس خانہ جنگی کے عذاب سے گزر رہے ہیں۔
عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے اپیل کی جا رہی ہے کہ یمن میں جاری اس خونریزی کو روکنے کے لیے فوری طور پر سفارتی کوششیں تیز کی جائیں۔ اگر تعز کی صورتحال مزید بگڑتی ہے تو یہ نہ صرف مقامی سطح پر ایک بڑا انسانی بحران پیدا کرے گی بلکہ خطے کی سیکورٹی کے لیے بھی نئے چیلنجز سامنے آئیں گے۔ فی الحال مغربی محاذ پر تناؤ برقرار ہے اور کسی بھی وقت بڑی جھڑپوں کا خدشہ بدستور موجود ہے، جس کے پیش نظر بین الاقوامی مبصرین صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔