LIVE
Loading Breaking News...

امریکی صدر ٹرمپ کا فیڈرل ریزرو پر شرح سود کم کرنے کے لیے دباؤ

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیڈرل ریزرو سے شرح سود میں نمایاں کمی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر شرح سود کم نہ کی گئی تو امریکہ اپنے اہم تجارتی شراکت داروں کے ساتھ تجارت بند کر دے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر فیڈرل ریزرو کے سربراہان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ملک میں شرح سود میں فوری کمی کرنے کا سخت مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک کو معاشی ترقی کو تیز کرنے کے لیے مانیٹری پالیسی میں نرمی لانا ہوگی تاکہ ملکی صنعتوں اور کاروبار کو مزید فروغ مل سکے۔ ٹرمپ کے مطابق، اگر فیڈرل ریزرو نے بروقت شرح سود میں خاطر خواہ کمی نہ کی تو وہ امریکہ کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں میں سرلسٹ رہنے والے ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو معطل یا ختم کرنے پر بھی غور کر سکتے ہیں۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق اس قسم کے بیانات عالمی منڈی اور مالیاتی مارکیٹوں میں گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے حالیہ ملازمتوں کی رپورٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی معیشت میں بہتری کے واضح آثار موجود ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ مرکزی بینک اس صورتحال کا فائدہ اٹھائے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ نامزد کردہ اہم شخصیات اور مالیاتی ماہرین جیسے کہ کیون وارش اپنے عہدوں پر ذمہ دارانہ انداز میں فرائض انجام دیں گے اور ملکی مفاد میں درست فیصلے کریں گے۔ ٹرمپ کا ماننا ہے کہ اونچی شرح سود امریکی برآمدات اور کاروباری اداروں پر بوجھ بن رہی ہے، جس سے بین الاقوامی منڈی میں ملکی مسابقت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اور فیڈرل ریزرو کے درمیان پالیسیوں پر یہ تناؤ کوئی نیا نہیں ہے، تاہم تجارتی تعلقات کو ختم کرنے کی دھمکی دینا ایک غیر معمولی قدم ہے۔ فیڈرل ریزرو ایک خود مختار ادارہ ہے جو مہنگائی پر قابو پانے کے لیے آزادانہ فیصلے کرتا ہے، لیکن سیاسی دباؤ کی وجہ سے مرکزی بینک کے آئندہ فیصلوں پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ کاروباری حلقے اس صورتحال کو بڑی تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ اس سے اسٹاک مارکیٹ اور ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا فیڈرل ریزرو صدر ٹرمپ کے اس دباؤ اور دھمکی کے آگے جھکتا ہے یا اپنی روایتی خود مختاری کو برقرار رکھتے ہوئے معاشی اشاریوں کی بنیاد پر فیصلے جاری رکھتا ہے۔ امریکی معیشت کی موجودہ صورتحال اور عالمی تجارت پر ان فیصلوں کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے، جس پر دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔