LIVE
Loading Breaking News...

نیپال سیلاب: امدادی ٹیموں کی بڑی کامیابی، ایک ہفتے بعد دو افراد بازیاب

News Image
نیپال اور تبت کی سرحد پر آنے والے ہولناک سیلاب کے ایک ہفتے بعد امدادی ٹیموں نے دو افراد کو سرنگ سے زندہ نکال لیا ہے۔ اس واقعے نے ہزاروں لاپتہ افراد کے لواحقین میں ایک بار پھر امید کی نئی لہر پیدا کر دی ہے۔
نیپال اور تبت کی سرحد پر آنے والے ہولناک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے المناک واقعات کے ایک ہفتے بعد، ریسکیو ٹیموں نے ایک ایسی کامیابی حاصل کی ہے جس نے ہر طرف امید کی ایک نئی کرن پیدا کر دی ہے۔ حکام کے مطابق، ایک سرنگ کے اندر پھنسے ہوئے دو افراد کو طویل جدوجہد کے بعد زندہ بازیاب کر لیا گیا ہے۔ یہ بازیابی اس وقت ہوئی ہے جب سیلاب اور تودے گرنے کے باعث اب تک 1300 سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جبکہ بہت سے لوگ ابھی تک لاپتہ ہیں اور ان کے اہل خانہ ان کی بحفاظت واپسی کے منتظر ہیں۔ امدادی کارروائیوں میں مصروف رضاکاروں اور مقامی انتظامیہ کے لیے یہ ایک غیر متوقع اور خوشگوار لمحہ تھا، کیونکہ ایک ہفتے سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد ملبے یا سرنگ کے اندر سے کسی کے زندہ نکلنے کی توقعات بہت کم ہو چکی تھیں۔ حکام نے بتایا کہ ان افراد کو انتہائی نازک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی حالت خطرے سے باہر ہے، تاہم یہ ایک معجزہ ہے کہ وہ اتنے طویل عرصے تک بغیر خوراک اور پانی کے انتہائی دشوار حالات میں زندہ رہنے میں کامیاب رہے۔ اس واقعے کے بعد ریسکیو آپریشن کی حکمت عملی میں بھی تبدیلی لائی گئی ہے اور امدادی ٹیموں نے ان علاقوں میں اپنی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں جہاں لوگ پھنسے ہو سکتے ہیں۔ نیپال میں آنے والے ان حالیہ سیلابوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جس کے باعث بنیادی ڈھانچہ، سڑکیں اور مواصلاتی رابطے مکمل طور پر منقطع ہو چکے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے بین الاقوامی امدادی تنظیموں سے بھی مدد کی اپیل کی گئی ہے۔ حکومتی ترجمان نے اس کامیابی کو 'خوشی کا ایک نایاب لمحہ' قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم آخری دم تک اپنے شہریوں کی تلاش جاری رکھیں گے۔ اگرچہ قدرتی آفت کی شدت بہت زیادہ تھی، لیکن اب بھی ایسے مقامات موجود ہیں جہاں امید کی جا سکتی ہے۔ فی الحال سیلاب زدہ علاقوں میں معمولات زندگی کی بحالی ایک بہت بڑا چیلنج ہے، اور موسم کی خرابی امدادی کاموں میں مسلسل رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔