World
نئی دہلی میں مسلم خواتین صحافیوں پر پولیس تشدد کا واقعہ
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں دو مسلمان خاتون صحافیوں نے پولیس پر حراست کے دوران بدترین تشدد کا الزام عائد کیا ہے۔ متاثرہ خواتین کے مطابق پولیس اہلکاروں نے انہیں غیر قانونی طور پر روکا اور انہیں جسمانی اور ذہنی اذیت پہنچائی۔
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی سے ایک انتہائی تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے جس میں دو مسلمان خواتین صحافیوں نے دہلی پولیس پر حراست کے دوران تشدد اور بدسلوکی کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ متاثرہ صحافیوں نے اپنی شکایت میں موقف اختیار کیا ہے کہ انہیں بلاجواز حراست میں لیا گیا اور دورانِ حراست نہ صرف ان کے ساتھ بدتمیزی کی گئی بلکہ انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ یہ واقعہ بھارت میں پریس کی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق جاری بحث کو مزید ہوا دے رہا ہے۔
صحافتی تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے میڈیا پر دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔ متاثرہ صحافیوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے انہیں ان کے فرائض کی انجام دہی کے دوران روکا اور انتہائی نامناسب رویہ اختیار کیا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اس قسم کا برتاؤ نہ صرف قانون کی حکمرانی کے منافی ہے بلکہ یہ صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے کے مترادف ہے تاکہ وہ سچائی کو سامنے نہ لا سکیں۔ اس واقعے کے بعد سے بھارتی سوشل میڈیا پر بھی ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے جس میں دہلی پولیس کی کارکردگی اور خواتین کی حفاظت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ابھی تک دہلی پولیس کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باقاعدہ وضاحت یا تردید سامنے نہیں آئی ہے، تاہم متاثرہ خواتین نے اعلیٰ حکام سے واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی مختلف تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس کی اس مبینہ زیادتی کا نوٹس لیا جائے اور صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ بھارت میں حالیہ برسوں کے دوران صحافیوں پر حملوں کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر بھی بھارت میں میڈیا کی آزادی کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
اس واقعے کے بعد صحافتی برادری میں گہری تشویش پائی جاتی ہے اور کئی صحافی تنظیموں نے احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک جمہوری معاشرے میں صحافیوں پر اس طرح کے حملے جمہوریت کے بنیادی ستونوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہیں۔ یہ واقعہ اس بات کا متقاضی ہے کہ حکام اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں اور متاثرہ صحافیوں کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا سدباب ممکن ہو سکے۔