World
عالمی خوراک کی قیمتیں چار سال کی بلند ترین سطح پر، اقوام متحدہ کا انتباہ
اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق جاری تنازعات اور شدید موسمی حالات کی وجہ سے عالمی سطح پر خوراک کی قیمتیں چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ خوراک کے عالمی اشاریے میں ہونے والے اس اضافے سے دنیا بھر میں غذائی تحفظ کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
اقوام متحدہ نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں جاری مسلح تنازعات اور شدید موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات کی وجہ سے خوراک کی عالمی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ صورتحال دنیا بھر میں غذائی تحفظ اور معاشی استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق خوراک کی قیمتوں کا عالمی اشاریہ گزشتہ چار سال کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران کی بنیادی وجوہات میں وہ اہم زرعی خطے شامل ہیں جو جنگ زدہ علاقوں میں آتے ہیں یا پھر وہاں انتہائی خراب موسمی حالات فصلوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ خوراک کی بنیادی اشیا کی قیمتوں میں ہونے والے اس بے پناہ اضافے کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ سپلائی چین میں تعطل، نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ اور بین الاقوامی منڈیوں میں عدم استحکام نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ عالمی اداروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر اس حوالے سے فوری اور مربوط بین الاقوامی اقدامات نہ کیے گئے تو کروڑوں افراد کو شدید غذائی قلت اور بھوک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکومتوں اور عالمی مالیاتی اداروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ زرعی پیداوار بڑھانے اور سپلائی چین کو مستحکم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کریں تاکہ عام آدمی کو مہنگائی کے اس طوفان سے بچایا جا سکے۔